اوپر نیچے درمیان
میاں صاحب: بہت دیر کے بعد آج مل بیٹھنے کا اتفاق ہوا ہے۔
بیگم صاحبہ: جی ہاں
میاں صاحب: مصروفیتیں۔ بہت پیچھے ہٹتا ہوں مگر نا اہل لوگوں کا خیال کرکے قوم کی پیش کی ہوئی ذمہ داریاں سنبھالنی ہی پڑتی ہیں
بیگم صاحبہ: اصل میں آپ ایسے معاملوں میں بہت نرم دل واقع ہوئے ہیں، بالکل میری طرح
میاں صاحب: ہاں! مجھے آپ کی سوشل ایکٹی وٹیزکا علم ہوتا رہتا ہے۔ فرصت ملے تو کبھی اپنی وہ تقریریں بھجوا دیجئے گا جو پچھلے دنوں آپ نے مختلف موقعوں
بیگم صاحبہ: بہت بہتر
میاں صاحب: ہاں بیگم! وہ میں نے آپ سے اس بات کا ذکر کیا تھا
بیگم صاحبہ: کس بات کا؟
میاں صاحب: میرا خیال ہے، ذکر نہیں کیا۔ کل اتفاق سے میں منجھلے صاحبزادے کے کمرے میں جا نکلا، وہ لیڈی چٹرلیز لور پڑھ رہا تھا
بیگم صاحبہ: وہ رسوائے زمانہ کتاب
میاں صاحب: ہاں بیگم
بیگم صاحبہ: آپ نے کیا کیا؟
میاں صاحب: میں نے اس سے کتاب چھین کر غائب کر دی۔
بیگم صاحبہ: بہت اچھا کیا آپ نے۔
میاں صاحب: اب میں سوچ رہا ہوں کہ ڈاکٹر سے مشورہ کروں اور اس کی روزانہ غذا میں تبدیلی کرا دوں
بیگم صاحبہ: بڑا صحیح قدم اُٹھائیں گے آپ۔
میاں صاحب: مزاج کیسا ہے آپ کا؟
بیگم صاحبہ: ٹھیک ہے
میاں صاحب: میرا خیال تھا کہ آج آپ سے۔ درخواست کروں۔
بیگم صاحبہ: اوہ! آپ بہت بگڑتے جا رہے ہیں۔
میاں صاحب: یہ سب آپ کی کرشمہ سازیاں ہیں۔
بیگم صاحبہ: لیکن آپ کی صحت؟
میاں صاحب: صحت؟ اچھی ہے لیکن ڈاکٹرسے مشورہ کیے بغیر کوئی قدم نہیں اُٹھاؤں گا۔ اور آپ کی طرف سے بھی مجھے پورا اطمینان ہونا چاہیے۔
بیگم صاحبہ: میں آج ہی مس سلڈھانا سے پوچھ لوں گی۔
میاں صاحب: اور میں ڈاکٹر جلال سے
بیگم صاحبہ: قاعدے کے مطابق ایسا ہی ہونا چاہیے۔
میاں صاحب: اگر ڈاکٹر جلال نے اجازت دے دی؟
بیگم صاحبہ: اگر مس سلڈھانا نے اجازت دے دی۔ مفلر اچھی طرح لپیٹ لیجیے۔ باہر سردی ہے۔
میاں صاحب: شکریہ
٭٭٭ ٭٭٭
ڈاکٹر جلال: تم نے اجازت دے دی؟
مس سلڈھانا: جی ہاں
ڈاکٹر جلال
میں نے بھی اجازت دے دی۔ حالانکہ شرارت کے طور پر۔
مس سلڈھانا: مجھے بھی۔
ڈاکٹر جلال: پورے ایک برس کے بعد وہ۔
مس سلڈھانا: ہاں پورے ایک برس کے بعد۔
ڈاکٹر جلال: میری انگلیوں کے نیچے اس کی نبض تیز ہوگئی، جب میں نے اس کو اجازت دی۔
مس سلڈھانا: اس کی بھی یہی کیفیت تھی۔
ڈاکٹر جلال: اس نے مجھ سے ڈرتے ہوئے کہا، ڈاکٹر! ایسا معلوم ہوتا ہے، میرا دل کمزور ہوگیا ہے۔ آپ کا رڈیوگرام لیجیے۔
مس سلڈھانا: اس نے بھی مجھ سے یہی کہا۔
ڈاکٹر جلال: میں نے اس کے ٹیکہ لگا دیا۔
مس سلڈھانا: میں نے بھی۔ صرف سادہ پانی کا
ڈاکٹر جلال: سادہ پانی بہترین چیز ہے۔
مس سلڈھانا: جلال! اگر تم اس بیگم کے شوہر ہوتے؟
ڈاکٹر جلال: اگر تم اس میاں کی بیوی ہوتیں؟
مس سلڈھانا: میرا کیریکٹر خراب ہوگیا ہوتا!
ڈاکٹر جلال: میراجنازہ اُٹھ گیا ہوتا!
مس سلڈھانا: یہ بھی تمہارے کیریکٹر کی خرابی کہلاتی۔
ڈاکٹر جلال: ہم جب بھی سوسائٹی کے ان آلوؤں کو دیکھنے آتے ہیں، ہمارا کیریکٹر خراب ہو جاتا ہے۔
مس سلڈھانا: آج بھی ہوگا؟
ڈاکٹر جلال: بہت زیادہ
مس سلڈھانا: مگر مصیبت یہ ہے کہ ان کا لمبے لمبے وقفوں کے بعد ہوتا ہے۔
٭٭٭ ٭٭٭
بیگم صاحبہ: لیڈی چٹرلیز لور، یہ آپ نے تکیے کے نیچے کیوں رکھی ہوئی ہے؟
میاں صاحب: میں دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ کتاب کتنی بے ہودہ اور واہیات ہے۔
بیگم صاحبہ: میں بھی آپ کے ساتھ دیکھوں گی۔
میاں صاحب: میں جستہ جستہ دیکھوں گا۔ پڑھتا جاؤں گا۔ آپ بھی سُنتی جایئے۔
بیگم صاحبہ: بہت اچھا رہے گا۔
میاں صاحب: میں نے منجھلے صاحبزادے کی روزانہ غذا میں ڈاکٹر کے مشورے سے تبدیلیاں کرا دی ہیں۔
بیگم صاحبہ: مجھے یقین تھا کہ آپ نے اس معاملے میں غفلت نہیں برتی ہوگی۔
میاں صاحب: میں نے اپنی زندگی میں کبھی آج کا کام کل پر نہیں چھوڑا۔
بیگم صاحبہ: میں جانتی ہوں۔ اور خاص کر آج کا کام تو آپ کبھی۔
میاں صاحب: آپ کا مزاج کتنا شگفتہ ہے۔
بیگم صاحبہ: یہ سب آپ کی کرشمہ سازیاں ہیں۔
میاں صاحب: میں بہت محفوظ ہوا ہوں۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو۔
بیگم صاحبہ: ٹھہریئے! کیا آپ نے دانت صاف کیے؟
میاں صاحب: جی ہاں! میں دانت صاف کر کے اور ڈیٹول کے غرارے کر کے آیا تھا۔
بیگم صاحبہ: میں بھی
میاں صاحب: اصل میں ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے بنائے گئے تھے
بیگم صاحبہ: اس میں کیا شک ہے
میاں صاحب: میں جستہ جستہ یہ بے ہودہ کتاب پڑھنا شروع کروں۔
بیگم صاحبہ: ٹھہریئے! ذرا میری نبض دیکھئے۔
میاں صاحب: کچھ تیز چل رہی ہے۔ میری دیکھئے۔
بیگم صاحبہ: آپ کی بھی تیز چل رہی ہے
میاں صاحب: وجہ؟
بیگم صاحبہ: دل کی کمزوری
میاں صاحب: یہی وجہ ہو سکتی ہے۔ لیکن ڈاکٹر جلال نے کہا تھا کوئی خاص بات نہیں۔
بیگم صاحبہ: مس سلڈھانا نے بھی یہی کہا تھا۔
میاں صاحب: اچھی طرح امتحان کر کے اس نے اجازت دی تھی؟
بیگم صاحبہ: بہت اچھی طرح امتحان کر کے اجازت دی تھی۔
میاں صاحب: تو میرا خیال ہے کوئی حرج نہیں
بیگم صاحبہ: آپ بہتر سمجھتے ہیں۔ ایسا نہ ہو، آپ کی صحت۔
میاں صاحب: اور آپ کی صحت بھی۔
بیگم صاحبہ: اچھی طرح سوچ سمجھ کر ہی قدم اُٹھانا چاہیے۔
میاں صاحب: مس سلڈھانا نے اس کا تو بندوبست کردیا ہے نا؟
بیگم صاحبہ: کس کا۔ ؟ ہاں، ہاں، اس کا تو بندوبست کردیا ہے اس نے۔
میاں صاحب: یعنی اس طرف سے تو پورا اطمینان ہے۔
بیگم صاحبہ: جی ہاں
میاں صاحب: ذرا اب دیکھئے نبض؟
بیگم صاحبہ: اب تو۔ ٹھیک چل رہی ہے۔ میری؟
میاں صاحب: آپ کی بھی نارمل ہے۔
بیگم صاحبہ: اس بے ہودہ کتاب کا کوئی پیرا تو پڑھیے۔
میاں صاحب: بہتر۔ نبض پھر تیز ہوگئی
بیگم صاحبہ: میری بھی۔
میاں صاحب: نوکروں سے مطلوبہ سامان رکھوا دیا آپ نے کمرے میں؟
بیگم صاحبہ: جی ہاں! سب چیزیں موجود ہیں۔
میاں صاحب: اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو میرا ٹمپریچر لے لیجیے
بیگم صاحبہ: کیا آپ تکلیف نہیں کر سکتے۔ اسٹاپ واچ موجود ہے۔ نبض کی رفتار بھی دیکھ لیجیے۔
میاں صاحب: ہاں! یہ بھی نوٹ ہونی چاہیے
بیگم صاحبہ: سملنگ سالٹ کہاں ہے؟
میاں صاحب: دوسری چیزوں کے ساتھ ہونا چاہیے
بیگم صاحبہ: جی ہاں، پڑا ہے تپائی پر۔
میاں صاحب: کمرے کا ٹمپریچر میرا خیال ہے تھوڑا سا بڑھا دینا چاہیے
بیگم صاحبہ: میرا بھی یہی خیال ہے
میاں صاحب: نقاہت زیادہ ہوگئی تو مجھے دوا دینا نہ بھولیے گا
بیگم صاحبہ: میں کوشش کروں گی اگر۔
میاں صاحب: ہاں ہاں۔ ! بصورت دیگر آپ تکلیف نہ اُٹھایئے گا
بیگم صاحبہ: آپ یہ صفحہ۔ یہ پورا صفحہ پڑھیے۔
میاں صاحب: سنیے! ۔
بیگم صاحبہ: یہ آپ کو چھینک کیوں آئی؟
میاں صاحب: معلوم نہیں
بیگم صاحبہ: حیرت ہے
میاں صاحب: مجھے خود حیرت ہے
بیگم صاحبہ: اوہ۔ میں نے کمرے کا ٹمپریچر بڑھا نے کے بجائے گھٹا دیا تھا۔ معافی چاہتی ہوں
میاں صاحب: یہ اچھا ہوا کہ چھینک آگئی اور بروقت پتہ چل گیا۔
بیگم صاحبہ: مجھے بہت افسوس ہے۔
میاں صاحب: کوئی بات نہیں۔ بارہ قطرے برانڈی اس کی تلافی کردیں گے
بیگم صاحبہ: ٹھہریئے۔ مجھے ڈالنے دیں۔ آپ سے گننے میں غلطی ہو جایا کرتی ہے۔
میاں صاحب: یہ تو درست ہے۔ آپ ڈال دیجئے۔
بیگم صاحبہ: آہستہ آہستہ پیجئے
میاں صاحب: اس سے زیادہ آہستہ اور کیا ہوگا؟
بیگم صاحبہ: طبیعت بحال ہوئی؟
میاں صاحب: ہو رہی ہے
بیگم صاحبہ: آپ تھوڑی دیر آرام کر لیں
میاں صاحب: ہاں۔ میں خود اس کی ضرورت محسوس کر رہا ہوں
٭٭٭ ٭٭٭
نوکر: کیا بات ہے، آج بیگم صاحبہ: نظر نہیں آئیں؟
نوکرانی: طبیعت ناساز ہے ان کی
نوکر: میاں صاحب کی طبیعت بھی ناساز ہے
نوکرانی: ہمیں معلوم تھا۔
نوکر: ہاں! لیکن کچھ سمجھ میں نہیں آتا
نوکرانی: کیا؟
نوکر: یہ قدرت کا تماشا۔ ہمیں تو آج بستر مرگ پر ہونا چاہیے تھا۔
نوکرانی: کیسی باتیں منہ سے نکالتے ہو۔ بستر مرگ پر ہوں وہ۔
نوکر: نہ چھیڑو ان کے بستر مرگ کا ذکر۔ بڑا شاندار ہوگا۔
خواہ مخواہ میرا جی چاہے گا کہ اُٹھا کر اپنی کوٹھری میں لے جاؤں۔
نوکرانی: کہاں چلے؟
نوکر: بڑھئی ڈھونڈنے جارہا ہوں۔ چار پائی اب بالکل جواب دے چکی ہے۔
نوکرانی : ہاں! اس سے کہنا، مضبوط لکڑی لگائے۔
سعادت حسن منٹو