نا مکیں یہاں کے ہم

رشید حسرت کی ایک اردو غزل

نا مکیں یہاں کے ہم نا تو ہم وہاں کے ہیں
یہ ورق جو بکھرے ہیں اپنی داستاں کے ہیں

کب گلوں کو سینچا ہے، تھوڑی آبیاری کی؟؟
سچ کہا اے طائر! ہم کون گلستاں کے ہیں؟

کتنی جاں فشانی سے پنچھیوں نے اٹکایا
جا بجا پریشاں اب تنکے آشیاں کے ہیں

ہم نے تان رکھا ہے اک حصار اپنے گرد
اب کی بار حملے وہ بزمِ دوستاں کے ہیں

وہ جو دل کی مسند پر آج جلوہ افگن ہیں
کون سمت سے آئے، کون ہیں، کہاں کے ہیں؟؟

جب پڑے کوئی مشکل بیٹیاں سہارا دیں
یہ ہماری ہمدرد، اور بیٹے اپنی ماں کے ہیں

ہم نے چند سانسوں کی التجا جو کی حسرتؔ
تب سے سب کنارے ہی سرخ آسماں کے ہیں

رشِید حسرتؔ

۱۹ جون ۲۰۲۵

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔