مجرم بنا دیا مرے حالات نے مجھے

شجاع شاذ کی ایک اردو غزل

مجرم بنا دیا مرے حالات نے مجھے
سفاک کر کے رکھ دیا صدمات نے مجھے

پتھر سا ہو گیا تھا میں کچھ بھی نہ کہہ سکا
چُپ سی لگا دی تیرے سوالات نے مجھے

اب روح بھی بھٹکتی ہے تیری تلاش میں
دِن نے سکوں دیا ہے نہ ہی رات نے مجھے

احساس چھین لے گیامجھ سے مری ہنسی
پتھر بنا دیا مرے جذبات نے مجھے

جی چاہتا ہے سانس سے بھی رشتہ توڑ دوں
وہ دکھ دیا ہے اب کے ملاقات نے مجھے

میں تھک گیا ہوں شاذؔ مگر کس سے کہوں
بھٹکا دیا ہے گردشِ حالات نے مجھے

شجاع شاذ

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔