مجھ کو عادت ہے زخم کھانے کی
اور پھر اس پہ مسکرانے کی
میں نے بچپن سے ہجر دیکھا ہے
بات کرتے ہو دور جانے کی
میرے ہمراز تو سمندر ہے
اور میں پیاس اک زمانے کی
اس جہاں اور أس جہاں کے بیچ
بات ساری ہے سانس آنے کی
عشق وحدانیت میں ڈوب گیا
کس کو پرواہ ہے اب زمانے کی
جس میں سوہنی تھی ہیر سسی تھی
خود کو کہتی ہوں اس گھرانے کی
ثوبیہ نورین نیازی