موج ساحل سے جب جدا ہو گی ایک طوفاں کی ابتدا ہو گی
مجھ سے پوچھو نہ داستاں میری میری ہر بات ناروا ہو گی
مدعا خامشی تک آ پہنچا اب نگاہوں سے بات کیا ہو گی
دل انوکھا چراغ ہے باقیؔ بجھ کے بھی روشنی سوا ہو گی
باقی صدیقی
بہزاد لکھنوی کی ایک اردو غزل
ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل