موج ساحل سے جب جدا ہو گی ایک طوفاں کی ابتدا ہو گی
مجھ سے پوچھو نہ داستاں میری میری ہر بات ناروا ہو گی
مدعا خامشی تک آ پہنچا اب نگاہوں سے بات کیا ہو گی
دل انوکھا چراغ ہے باقیؔ بجھ کے بھی روشنی سوا ہو گی
باقی صدیقی
ایک اردو غزل از اویس خالؔد
ایک اردو نظم از احمد حجازی
ایم اے دوشی کی ایک اردو غزل