موج ساحل سے جب جدا ہو گی ایک طوفاں کی ابتدا ہو گی
مجھ سے پوچھو نہ داستاں میری میری ہر بات ناروا ہو گی
مدعا خامشی تک آ پہنچا اب نگاہوں سے بات کیا ہو گی
دل انوکھا چراغ ہے باقیؔ بجھ کے بھی روشنی سوا ہو گی
باقی صدیقی
رشید حسرت کی ایک اردو نظم
سہیل احمد صمیم کی ایک اردو غزل
ایک اردو غزل از رشید حسرت
وصال عباسی کی ایک اردو غزل