موج ساحل سے جب جدا ہو گی ایک طوفاں کی ابتدا ہو گی
مجھ سے پوچھو نہ داستاں میری میری ہر بات ناروا ہو گی
مدعا خامشی تک آ پہنچا اب نگاہوں سے بات کیا ہو گی
دل انوکھا چراغ ہے باقیؔ بجھ کے بھی روشنی سوا ہو گی
باقی صدیقی
محمد عمیر سالک کی ایک اردو نظم
محمد عمیر سالک کی ایک اردو غزل