موج ساحل سے جب جدا ہو گی ایک طوفاں کی ابتدا ہو گی
مجھ سے پوچھو نہ داستاں میری میری ہر بات ناروا ہو گی
مدعا خامشی تک آ پہنچا اب نگاہوں سے بات کیا ہو گی
دل انوکھا چراغ ہے باقیؔ بجھ کے بھی روشنی سوا ہو گی
باقی صدیقی
میر حسن کی ایک اردو غزل
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
ایک اردو غزل از رشید حسرت