میں محسن خالد محسن کو ایک زمانہ سے جانتا ہوں ۔اس کے ہاں شاعری کی صلاحیت رب تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ حالات نے اس شخص کو مزید تخلیقی بنا دیا ۔ 2011 میں میری اس سے پہلی ملاقات، آئی بھی ایل کالج ،فیصل ٹاؤن لاہورمیں ہوئی تھی ۔ اردو مضمون پڑھانے کے لیے موصوف تشریف لائے تھے۔ سر نعمان کے ساتھ شیخ ٹی سٹال مون مارکیٹ میں پہلی دفعہ پتہ چلا کہ یہ اُستاد شاعر بھی ہیں ۔ میں نے انھیں ذرا ہلکا لیا کہ ہو سکتا ہے تاہم مختصر گفتگو سے اندازہ ہو گیا کہ اس شخص میں شاعرانہ لیاقت موجود ہے۔ آئی بی ایل کالج کے بانی جناب مبارک حیات صاحب نے کمال شفقت سے انھیں پورا سیشن پڑھانے کی رضامندی ظاہر کی ۔اس طرح محسن خالد محسن سے سال بھر کی اس رفاقت نے ان کی شخصیت اور شاعری کے جملہ محاسن مجھ پر کھول دئیے۔
یہ وہ دور تھا جب میں خود ان کے ساتھ عملی زندگی کا اغاز کر رہا تھا۔ مشکل وقت تھا،مستقل روزگار کی تلاش میں کبھی یہاں اور کبھی وہاں آنا جانا رہتا تاہم صبح کے وقت ہم دیگر دوستوں کے ساتھ اسی کالج میں پڑھاتے تھے۔ سن 2011 اور 2012 اسی کالج میں گزرے پھر 2014 کا پورا سال اسی کالج میں سال گزارا۔2015 میں محسن ڈی پی ایس ماڈل ٹاون چلا گیا اور میں نے ایک اور کالج میں ملازمت اختیار کر لی۔دورانِ تدریس ہم دونوں اچھے دوست بن گئے۔
محسن کی شخصیت میں بے چینی اور بے قراری موجود تھی۔ یہ شخص وقت سے پہلے اپنے اہداف حاصل کر لینا چاہتا تھا۔ چھوٹے سے گاؤں سے بہت بڑے خواب لے کر آنے والا یہ شخص دن دوگنی رات چوگنی ترقی کے خواب ساتھ لایا تھا، جو اسے چین سے نہیں رہنے دیتے تھے۔گاؤں کا کچا مکان جو گرنے والا تھا،اسے پکا کرنا تھا، بہن بھائی کی شادی کرنا تھی اور پی ایچ ڈی کر کے ڈاکٹر بننا تھا ۔ میں اس شخص کی باتیں سُن کر حیران ہوتا تھا کہ یہ شخص اتنی کم مدت میں یہ سب کچھ کیسے کر سکتا ہے۔
2015 میں ڈی پی ایس ماڈل ٹاون میں محسن نے جونئیر اُستا د کی حیثیت سے پڑھانا شروع کیا تو پھر روز کی ملاقات کا سلسلہ تقریباً ختم ہو گیا۔ کبھی کبھی ہفتے دو ہفتے میں ملاقات ہو جاتی تھی اور کبھی مہینوں گزر جا تے تھے۔ اسی طرح تین سال گزر گئے ۔ 2016 میں اس نے ایم فل اردو میں ناردرن یونی ورسٹی نوشہرہ میں داخل لیا ۔ میں نے کہا کہ اتنی دور، کیسے یہ ممکن ہوگا؟ کہنے لگا :ہونے کو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس نے ایک واقعہ سنایا کہ 2010 میں جب میں نے اپنا گھر چھوڑا تو اُس وقت طارق بن زیاد کی طرح سبھی کشتیاں جلا دی تھیں کہ اب لاہور میں اپنے لیے مستقل ٹھکانہ اور ملازمت اختیار کرنی ہے ۔
اس کے پختہ اردوں کی استقامت مجھے اکثرمتاثر تو کرتی تھیں تاہم میں پورے یقین سے نہیں کہ سکتا تھا کہ یہ شخص واقعی اتنا جنونی ہو سکتا ہے۔ 2018 کے مارچ میں اس کا میسج آیا کہ میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کی طرف سے لیکچرار اُردو منتخب ہو گیا ہوں ۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ چلو اس بندے کی کشتی تو کنارے لگی ۔ اپریل2018 میں اس نے گورنمنٹ گریجوایٹ کالج ڈسکہ میں اپنی پہلی جوائنگ دی اور ڈیڑھ برس وہاں گزارا۔
ڈسکہ شہر کے دوستوں کا ذکر اس کی زبانی کثرت سے سن رکھا ہے۔ اسی دوران اس کے دو شعری مجموعے ” کچھ کہنا ہے” اور دُھند میں لپٹی شام” شائع ہو چکے تھے۔ محسن پہلے بات بات پر اشعار سنایا کرتا تھا۔ اسے ہزاروں اشعار یاد تھے تاہم لیکچرار ہونے کے بعد اشعار سنانے کی عادت کم ہوگئی اور قدرے خاموش سا ہو گیا۔ شائد مستقل ملازمت نے آوارگی کی شدت کو کم کر دیا تھا ،یہ وجہ تھی یا کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے ۔ 2018 میں اس کی شادی ہوئی ۔ حافظ محمد شاہد اور سیم دانیال کے ساتھ میں اس کے گاؤں رسول پور چک 5 پتوکی میں شادی میں شرکت کی غرض سےگیا تھا۔ گاؤں کی شادی،گاوں کی روایت، تہذیب، ثقافت، رکھ رکھاؤ اور ملنساری نے مجھے بہت متاثر کیا۔
میں چوکہ پیدائشی لاہوریا ہوں اس لیے خالص دیہی گاؤں کی بو باس اور رکھ رکھاؤ نے مجھے محسن کی شخصیت اور شاعری کو اچھی طرح سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ شادی زیادہ دیر چل نہ سکی۔ اس شادی کے نتیجے میں ایک بیٹی ایمن زھرا پیدا ہوئی۔ ان کی بیوی قانون کے شعبے میں ملازم ہیں اور مزاج بھی وکیلوں والا ہے جبکہ یہ بندہ سب کچھ قربان کرنے والا اور اپنی ذرا بھی پروانہ نہ کرنے والاتھا۔ ضرورتیں ہر انسان پورا کر لیتا ہے لیکن خواہشیں وقت مانگتی ہیں۔
شاعر ویسے ہی لا اُبالی ہوتا ہے اس کے باوجود محسن کومیں نے ہر معاملے میں ذمہ دار ضرور دیکھا ہے۔ یعنی اس شخص نے پاک ٹی ہاؤس، الحمرا دبی بیٹھک، مجلس ترقی ادب ، مجلس اقبال وغیرہ میں جانے کی بجائے اپنی ذات پر توجہ دی اور مستقل روزگار کو تعلیم کے ساتھ جوڑے رکھا۔ ایسے میں یہ حادثہ اس کی کمر توڑ گیا۔کورٹ اور تھانے کے لگاتار چکروں نے اس کی شخصیت کو کمزور کیا لیکن اس حادثے کی وجہ سے اس کی شاعری میں پختگی بھی آئی۔
اس حادثے سے پہلے محسن کی شاعری میں رومانیت اور روایتی محبت کے موضوعات گردش کرتے تھے۔ اس وقوعہ کے بعد اس کی شاعری بالکل بدل گئی۔ "ت لاش” شعری مجموعے میں اس نے نثری نظموں پر ہی توجہ رکھی اور غزل کو بالکل چھوڑ دیا۔ اس کے پیچھے بھی یہی حادثہ تھا۔ ان کی نظمیں پڑھ کر اندازہ ہوتا تھا یہ کہ شخص کس قدر اذیت میں رہا ہے اور میاں بیوی کے تعلق کو کس انداز میں دیکھتا ہے۔
میں اس شخص کے ساتھ برسوں رہا ہوں اور اسے پوری طرح نہ سہی لیکن بہت حد تک جانتا ہوں کہ اس کے ہاں بیوی سے واسبتہ محبت جدت کی حامل نہ تھی بلکہ روایتی انداز کی تھی یعنی وہی نوے کی دہائی میں دکھائی جانے والی انڈین فلموں کی محبت جو اس کے ذہن و دل میں رچ بس گئی تھی۔ پہلی شادی کے المناک انجام کے بعد محسن بالکل بدل گیا۔ اس تجربے نے اس کی ذہنی کیفیت کو بالکل تبدیل کر دیا۔ ہنسی کی جگہ اُداسی، مزاح کی جگہ مایوسی اور اُمید کی جگہ یاس نے لے لی تھی۔ بہت کم ملنا رہا اور ملاقات میں بھی کورٹ تھانے میں ہونے والے واقعات کا ذکر ہی سننے کو ملتا۔
دو برس اسی آزمائش میں گزرے۔ حالات نارمل ہوئے تو دوبارہ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان کے شعری مجموعے ” ت لاش” میں دسیوں نظمیں اسی تجربے کی کہانیاں ہیں جیسے "میں نہیں دیکھ سکتا، روشنی کا جنم، دولت اور کتاب، عشق فرض کفایہ، میں کہ مردود ٹھہرا،گریہ کی خواہش،ہار اور جیت، رجوع کی دسترس "وغیرہ۔ محسن کے ہاں میں نے جو چیز سب سے زیادہ حیران کن دیکھی وہ نسوانی جذبات ہیں۔ یہ بندہ ایک حادثے سے گزرا جہاں میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ نبھاہ نہ کرسکے اور راستے جدا ہوگئے ۔ایسے میں ایک عام انسان مخالف جنس کے بارے میں کئی طرح کے اختلافات رکھتا ہے اور لعن طعن کو اپنا شعار بناتا ہے لیکن محسن کی گفتگو اور شاعری میں ایسا کچھ دکھائی اور سنائی نہیں دیتا۔
دورانِ ملاقات گفتگو کرتے ہوئے سابقہ بیگم کا ذکر آتے ہی محسن خاموش ہو جاتا اور کہتا کہ یار یہ محبت بڑی مزے کی چیز ہے، یہ انسان کو برباد کر دیتی ہے اور برباد کرنے والے کو ہمیشہ آباد رہنے کی خواہش بھی رکھتی ہے۔ہم دوست روایتی محبت کا ذکر کرتے اور سوشل میڈیا کے زیر اثر بتدیل ہونے والی اقدار کا ماتم کرتے رہتےلیکن محسن کہتا کہ محبت صرف ایک بار ہوتی ہے اور پھر چہرے بدلتی رہتی ہے لیکن معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتی۔
آزمائش کے دور میں محسن کہا کرتا کہ یار ! آپ نہیں سمجھ سکتے جس شخص نے عمر بھر خود کو کسی اور کے آگے برہنہ ہونے سے روکا اور اپنا آپ محفوظ کیے رکھا پھر خوشی خوشی ایک شخص کے حوالے کر دیا تو اس میں دینے والے کا کیا قصور ہے ۔یہ تو ظرف کا معاملہ ہے کہ کوئی کیا لیتا ہے اور کیا دیتا ہے۔ اس کی باتوں میں ہمیشہ سے گہرا فلسفہ اور ادراک موجود ہے تاہم اس حادثے سے اس کی شاعری میں خیال کی پختگی کے ساتھ فلسفے کی حکیمانہ صفت بھی شامل ہوگئی ہے جس سے اس کی باتیں اب سر سے نہیں گزرتیں بلکہ دل پر اثر کرتی ہیں۔
” ت لاش” کی بیشتر نظموں میں محبت کی بے توقیری کے ساتھ عورت کی عصمت اور اس کے ساتھ ہونے والے پدرسری ظلم کا ذکر بھی بطور ِخاص ملتا ہے جو مجھے بطور حیران کرتا ہے مثلاً” خواہشِ مرگ ِ مکرر، جیت کا جشن، آزادی کا وہم،محبت جتانے والوں سے،آخری خواہش، دُنیا تو کوئی بھی خرید سکتا ہے، ہم ساتھ چلیں گے” وغیرہ میں عورت کے جذبات و احساسات کو نسائی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ محسن کی شاعری کو میں نے وقت کے ساتھ شاعری بنتے دیکھا ہے ۔میں اس عمل کا گواہ بھی ہوں۔
ہو سکتا ہے کہ محسن کی ذات میری طرح کسی اور پر بھی یونہی کُھلی ہو جیسے مجھ پر ظاہر ہوئی ہے لیکن میں ذاتی طور پر محسن کو جانتا ہوں کہ اس کی ہر نظم اور مصرعوں میں موجود واردات کو میں شاعر کی طرح سمجھ سکتا ہوں کیونکہ میں نے اس شاعر کو بہت گہرائی سے دیکھا ہے۔
محسن کی نظموں میں جملہ جذبات کا اظہار ملتا ہے۔ اس نے اپنا تعلیمی سفر مشکل ترین حالات میں بھی جاری رکھا۔ مجھے یاد ہے 2020 میں اس نے قرض اُٹھا کر پی ایچ ۔ڈی کی فیس ادا کی اور مقالہ کی تکمیل کے لیے سینکڑوں چکر نوشہرہ یونی ورسٹی میں لگائے۔ کہا کرتا تھا کہ میں نے بسوں کو اتنا کرایہ دیا کہ ایک بس خود خرید سکتا تھا۔ یعنی لاہور سے ہر ہفتے نوشہرہ جانا اور پھر واپس آکر معمولی معاوضہ پر ہوم ٹیویشن پڑھانا اور دیگر چھوٹی موٹی ملازمتیں کرنا ایک عام انسان کو جلد تھکا دینے والا عمل ہے لیکن محسن کے ہاں حوصلہ مندی او رمثبت طرزِ فکر بہت پختہ تھی جو نو برس جاری رہی۔
اس شخص میں پیسے کی ہوس نہ ہونے کے برابر میں نے دیکھی ہے۔ محسن کے ساتھ امتحانی ڈیوٹیز میں راقم نے خود پیسوں بھرےلفافوں کو احترام سے واپس لوٹاتے دیکھا ہے۔ میں یہ کیسے قبول کر لوں کہ یہ شخص پیسے کا لالچ رکھتا ہے ۔اس بات کا ذکر اس لیے آگیا کہ مقدمات کی تحریروں میں اکثر اس الزام کو دہرایا گیا تھا ۔
اس محرک کے پیچھے اس شخص کی سوچ،فکر اور اقدار میں تصوف کا گہرا اثر موجود ہے۔ اس کے ساتھ بیٹھ کر گھنٹوں جنوں اور پریوں کے قصے ہم سنتے تھے
محسن نے 2024 میں پی ایچ ۔ڈی اُردو کی تکمیل کی ہے۔ مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ اس شخص نے جیسے تیسے مشکل حالات کے باوجود اپنا تعلیمی خواب پورا کیا۔ کسی کے لیے یہ خواب محض ایک معمولی کامیابی ہوسکتا ہے لیکن ایک گمنام گاؤں سے اُٹھ کر آزمائشوں کے طویل سفر سے گزر کر ایک ناممکن خواہش کو ممکن بنانا اپنے آپ میں ایک بڑا کارنامہ ہے۔ محسن کا مقالہ ” اُردو غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ” ہے ۔اس موضوع کی وسعت سے آ پ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس شخص کو ادب ،روایت، تصوف، تاریخ، تہذیب، سماج، معاشرت اور اقدار سے کس قدر لگاؤ ہے۔
تلمیحات پر کام کرنا اور پانچ بڑے شعرا پر کام یعنی میر،آتش،ناسخ،غالب اور داغ پر یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ اس مقالے کی ضخامت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں لفاظی نہیں کی گئی بلکہ جان ماری گئی ہے۔ علاوہ ازیں محسن باقاعدگی سے کالم بھی لکھتا ہے ۔اس کے کالموں میں ہر طرح کےموضوعات موجود ہیں۔ خاص طور پر سیکس ایجوکیشن کے موضوع کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اس کے کالموں کے عنوان پڑھ کر انسان شرمندہ ہوتا ہے لیکن کالم پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ اس کے کالموں میں واقع چھپی ہوئی حقیقتوں کو واضح کیا گیا ہے۔
محسن کے ہاں نثر اور نظم دونوں کمال کی ہے۔ محسن ایک کثیر الجہت شخصیت ہے ۔،اس کے ہاں ہر صنف میں لکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ حال ہی میں اس کا چوتھا شعری مجموعہ ” محبت معاہدہ نہیں” شائع ہوا ہے۔اس مجموعے میں لفظ محبت کے علاوہ وہ سب کچھ موجود ہے جو عہدِ حاضر کی شاعری میں ہمیں پڑھنے کو ملتا ہے۔محسن نے نثری نظم کو مستقل اظہار کاذریعہ بنایا ہے۔ میں نے ایک بار پوچھا کہ تم نثری نظم اور آزاد نظم کیوں لکھتے ہو؟کہنے لگا کہ اس میں یہ سہولت رہتی ہے کہ جس تجربے سے آپ براہ راست گزرے ہیں اُسے ویسے ہی نظم میں لکھا جاسکتا ہے ۔
نثری نظم ایک ایسا آہنگ ہے جس میں شاعر کے دل پر جو گزرتی ہے ویسے ہی تحریر ہو جاتی ہے ۔ میں نے سنا ہے کہ نثری نظم کہنا ایک شاعر کے لیے بہت مشکل ہے کہ اوزان کے بغیر اور قافیہ ردیف کے بغیر محض جذبات اور تجربات کو لفظو ںمیں بیان کر کے قاری سے داد لینا مشکل ہوتا ہے لیکن محسن کہتا ہے کہ یہی تو اصل فن ہے کہ آپ کے پاس کوئی شعری سہارا نہیں ہے اس کے باوجود آپ قاری کو متاثر کر لیتے ہیں۔
نثری نظم کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں آپ کو پوری نظم پڑھنا پڑھتی ہے ورنہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ن م راشد، میرا جی اور مجید امجد نے آزاد نظمیں لکھیں اور نثری نظموں کی روایت کو بھی آگے بڑھایا ۔ انگریزی میں تو اس کا چلن بہت پہلے سےموجود ہے ۔ محسن کے چوتھے شعری مجموعے ” محبت معاہدہ نہیں” کی نظموں میں اس کا خالصتاً فکر اور فلسفہ کا بیان موجود ہے۔ اس میں پہلے والے حادثے یعنی سوانحی تجربات کا ذکر بہت کم ہے ۔اس مجموعے میں اس نے دُنیا، سماج، معاشرے اور رشتوں سے جو کچھ لیا اُسے لکھا ہے۔
یہ شخص باغی ہے اور باغیانہ مضامین کو بہت کھلے انداز میں لکھتا ہے۔اس کے ہاں شرم اور جھجھک نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اس کی نظموں کے عنوان بالکل مختلف اور نئے ہیں یعنی اس کے ہاں روایت کی پیروی کا کوئی خاص مقام نہیں ہے۔ بطور شاعر کہتا ہے کہ میں نے اپنے درد و کرب کو نظموں میں ڈھالا ہے۔ میں مجبور تھا کہ میں اس درد کو کہاں لے کر جاؤں ۔ جو کچھ میری نظموں میں موجود ہے وہ خالصتاً ذاتی تجربات ہیں۔ اس کا مشاہدے اور شعری روایت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ "محبت معاہدہ نہیں” کی نظموں میں”میں چلتا جا رہا ہوں، قیدی عورتیں، امکان سے پرے، ایسا کیوں لگتا ہے، مجھے خواب دکھاؤ، محبت معاہدہ نہیں، روشنی سے آگے، وقت کا مقدمہ، چکی کے پاٹ” مجھے زیادہ متاثر کرتی ہیں۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ شاعر بیس پچیس نظموں کا مجموعہ شائع کر لیتا ہے اور پھر درجنوں مجموعوں کی اشاعت کو اپنا کارنامہ سمجھتا ہے لیکن محسن کے ہاں یہ تاثر موجود نہیں ہے۔ ان کے دونوں مجموعوں میں صفحات کی تعداد ساڑھے تین سو کے قریب ہے،یعنی اس شخص نے عام رجحان کے بالکل مخالف یہ ثابت کیا ہے کہ نظمیں چھوٹی بڑی اہم اور غیر اہم نہیں ہوتی۔ محسن کہتا ہے کہ میں نے خیال پر زور دے کر نظمیں نہیں کہیں اور نہ ہی کسی مشاعرے میں داد وصول کرنے کے لیے لکھی ہیں ۔یہ میرے درد ہیں اور میری زندگی کا خبرنامہ ہے۔اس لیے میں نے انھیں جوں کا توں لکھ دیا اور کتاب میں شامل کر دیا ۔
محسن کہتا ہے ان نظموں میں اگر ادبیت موجود ہے تو اچھی بات ہے اور اگر نہیں ہے تو بھی اچھی بات ہے کہ میں نے کبھی بطور شاعر خود کو کسی میزان پر آنکنے کے لیے پیش نہیں کیا۔ محسن کہتا ہے کہ ہر انسان شاعر ہے اور اس کے اندر شاعری دھڑکتی ہے ۔فرق یہ ہے کہ شاعر شاعری کو غزل ونظم کا لباس پہنا کر باہر لا کھڑا کرتا ہے جبکہ عام انسان اسے اپنے اندر چھپا کر رکھتا ہے۔
محسن کا شعری سفر ابھی جاری ہے۔ شاعری کے علاوہ تحقیق اور تنقید میں بھی اس کا کام معیار ی ہے۔ درجن کے قریب کتابیں اس بات کاثبوت ہیں کہ یہ شخص ہر صورت لکھنے کے لیے پید اکیا گیا ہے ۔ میں یہ کہ سکتا ہوں کہ محسن کی ذات میں وہ سبھی صفات موجود ہیں جنھوں نے اسے ایک بہترین اُستاد، دوست،شاعر اور انسان بننے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
محسن کی نظموں کو میں نے انگریزی میں اس لیے ترجمہ کیا ہے کہ ان نظموں کے اندر جن موضوعات کو بیان کیا گیا ہے وہ عالمی ادبیات کے معیار کے عین مطابق ہیں۔ محسن کی نظموں میں ہر اُس انسان کے جذبات کی عکاسی کی گئی ہے جو درد کو درد سمجھتا ہے اور آزمائش کو آسائش کا متبادل کہتا ہے۔
محسن کی نظموں میں اکیسویں صدی کے عالمی منظر نامے کا المیہ موجود ہے جس نے مجھے ان نظموں کو انگریزی قالب میں ڈھالنے پر مجبور کیا ۔محسن کی نظموں کا مترجم ہونے کی حیثیت سے میں نے محسن کی شخصیت اور شاعری پر مفصل مضمون اس لیے لکھا کہ میں ان نظموں کی تخلیق کا عینی شاہد ہوں اور میں ا ن نظموں میں بیان ہونے والے درد ا ورکرب کو ایک قاری سے زیادہ سمجھتا ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ محسن خالد محسن کی نظموں کو میں نے انگریزی میں ترجمہ کرکے کتابی صورت میں ترتیب دیا۔
یہ ایک ادنیٰ سی کاوش ہے ،جسے قارئین قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔
شہزاد مسیح