مری خطا کہ تجھے بار بار سوچا تھا

سمیر شمس کی اردو غزل

مری خطا کہ تجھے بار بار سوچا تھا
بس ایک بار ترا اختیار سوچا تھا

مجھے قبول کہ تُو میرا پہلا عشق نہیں
کہ تجھ سے پہلے بھی یُوں ایک بار سوچا تھا
۔۔۔۔۔
کچھ اِس لیے بھی ترا منتظر ہُوں مّدت سے
خزاں کے جیسا مَیں ، تجھ کو بہار سوچا تھا

تمام رات کہ تنہا گزار دی مَیں نے
کب اِس طرح سے مَیں نے میرے یار سوچا تھا

تمھاری آنچ سے گھُلتا ہی جا رہا ہے بدن
تُو کوئی آگ ہے مَیں نے چنار سوچا تھا

پھر ایسا بھی ہُوا تصویر اتار لی مَیں نے
تمھارے چہرے کو کچھ اِتنی بار سوچا تھا

سمیرؔ شمس

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔