میں پریشان ہوں نئے گھر سے

اکرام عارفی کی ایک اردو غزل

میں پریشان ہوں نئے گھر سے
سارے دروازے لگتے ہیں سر سے

قرطبہ تو بنا نہیں سکتا
دل بناتا ہوں سنگ مرمر سے

جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں
جو گرجتے تھے آج وہ برسے

مختصر یہ کہ خانماں برباد
بستروں میں قیام کو ترسے

میں نے طوطا بدل لیا اکرامؔ
سرمئی رنگ کے کبوتر سے

اکرام عارفی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔