Oplus_131072
میں اپنے آپ کو پہچاننے سے قاصر ہوں
مگر یہ بات ابھی ماننے سے قاصر ہوں
وہ ہر کسی پہ برابر کبھی نہیں کھلتا
سو جان کر بھی اُسے جاننے سے قاصر ہوں
ابھی تو کارِ جہاں سے الجھ رہی ہوں میں
یہ خاکِ دشتِ ابھی چھاننے سے قاصر ہوں
کبھی کبھار جفا کو بھی دل مچلتا ہے
میں سر پہ ابرِ وفا تاننے سے قاصر ہوں
تو سچ کیساتھ ملاتا ہے جھوٹ باتوں میں
تجھے میں آئینہ گرداننے سے قاصر ہوں
کومل جوئیہ