منزل الجھ گئی ہے یہاں راستے سمیت

اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل

منزل الجھ گئی ہے یہاں راستے سمیت
محوِ سفر ہیں پھر بھی اسی حوصلے سمیت

دنیا میں کچھ نہیں سوائے وصال کے
تجھ کو زمیں میں گاڑ دوں اس فلسفے سمیت؟؟

گرچہ لکھا ہوا ہے سبھی برج ہیں خلاف
تو پھر بھی ہے قبول اسی زائچے سمیت

سننے میں آ رہا ہے کہ تو عالی ظرف ہے
اے ہجر دے پناہ مجھے قہقہے سمیت

دو دو عطا ہوئی ہیں یہ شاید اسی لئے
دیکھیں گی تجھ کو ساتھ میں آئے ہوئے سمیت

پھر ہم بھی مان لیں گے مصور ترا کمال
تصویر گر بنا دے مری واقعے سمیت

لے دیکھ تیرے حکم کی تعمیل ہو گئی
تجھ کو بھلا دیا ہے ترے ذائقے سمیت

اظہر عباس خان

اظہر عباس خان

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔