منزل الجھ گئی ہے یہاں راستے سمیت
محوِ سفر ہیں پھر بھی اسی حوصلے سمیت
دنیا میں کچھ نہیں سوائے وصال کے
تجھ کو زمیں میں گاڑ دوں اس فلسفے سمیت؟؟
گرچہ لکھا ہوا ہے سبھی برج ہیں خلاف
تو پھر بھی ہے قبول اسی زائچے سمیت
سننے میں آ رہا ہے کہ تو عالی ظرف ہے
اے ہجر دے پناہ مجھے قہقہے سمیت
دو دو عطا ہوئی ہیں یہ شاید اسی لئے
دیکھیں گی تجھ کو ساتھ میں آئے ہوئے سمیت
پھر ہم بھی مان لیں گے مصور ترا کمال
تصویر گر بنا دے مری واقعے سمیت
لے دیکھ تیرے حکم کی تعمیل ہو گئی
تجھ کو بھلا دیا ہے ترے ذائقے سمیت
اظہر عباس خان