منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال اور اس کے تباہ کن اثرات
آج کا دور بظاہر ترقی، ٹیکنالوجی اور سہولتوں کا زمانہ ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک گہرا المیہ پوشیدہ ہے — وہ المیہ جس نے نوجوان نسل کے ضمیر، کردار اور خوابوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ المیہ ہے منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال، جو نہ صرف انفرادی زندگیوں کو تباہ کر رہا ہے بلکہ قومی مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال چکا ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج کی نوجوان نسل ایک مشکل
گزشتہ چند برسوں میں، خصوصاً کورونا وبا کے بعد، معاشی مشکلات اور سماجی تنہائی نے نوجوانوں کو مزید غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا۔ تعلیم ادھوری، ملازمت ناپید، مستقبل دھندلا — ایسے میں منشیات کا سہارا وقتی راحت اور فرار کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ راحت صرف چند لمحوں کی دھوکہ دہی ہے۔ نشے کی دنیا وہ اندھی گلی ہے جہاں سے واپسی کا راستہ اکثر بند ہو جاتا ہے۔
سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے پھیلاؤ نے جہاں معلومات کے در کھولے ہیں، وہیں منشیات کی دستیابی کو بھی آسان بنا دیا ہے۔ آن لائن آرڈرز، خفیہ گروپس، اور جعلی مصنوعات کے ذریعے یہ زہر نوجوانوں کے دروازوں تک پہنچ چکا ہے۔ پہلے نشہ "چند مخصوص طبقوں” تک محدود تھا، اب یہ عام گھروں، تعلیمی اداروں اور حتیٰ کہ اسکولوں تک سرایت کر چکا ہے۔
منشیات کے نقصانات محض جسمانی نہیں، یہ ذہنی، اخلاقی اور روحانی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ سب سے پہلے دماغ متاثر ہوتا ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ماند پڑ جاتی ہے۔ ڈپریشن، اینگزائٹی، بے خوابی، وہم اور خوف جیسی کیفیات انسان کی شخصیت کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیتی ہیں۔ جسمانی طور پر دل، جگر، گردے اور اعصاب تباہ ہونے لگتے ہیں۔ منشیات کا عادی شخص اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کی عزت، سکون اور خوشیاں بھی داؤ پر لگا دیتا ہے۔
ایک نشئی نوجوان صرف اپنی ذات کا مسئلہ نہیں ہوتا، وہ پورے خاندان کے لیے عذابِ مسلسل بن جاتا ہے۔ والدین کی راتیں جاگتے گزرتی ہیں، گھر کا سکون برباد ہو جاتا ہے، مالی وسائل ختم ہو جاتے ہیں، اور عزت و وقار کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ بہن بھائی شرمندگی میں چپ ہو جاتے ہیں، محلے والے طنز کرتے ہیں، اور رفتہ رفتہ ایک پورا خاندان معاشرتی تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔
یہی نہیں، منشیات کی لت جرائم، چوری، بدعنوانی اور دہشت گردی جیسے بڑے سماجی مسائل کو بھی جنم دیتی ہے۔ ایک نشئی نوجوان جب اپنی لت پوری کرنے کے لیے جرم پر اتر آتا ہے تو وہ صرف اپنی زندگی نہیں بلکہ دوسروں کی جان و مال کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں منشیات کے خلاف جنگ صرف صحت عامہ کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بھی سمجھی جاتی ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں یہ مسئلہ مزید خطرناک ہے کیونکہ یہاں تعلیم، روزگار اور تفریح کے مواقع محدود ہیں۔ حکومت کی طرف سے انسدادِ منشیات کے قوانین موجود ضرور ہیں، مگر ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسمگلر، ڈیلر اور بیوپاری طاقتور نیٹ ورکس کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششیں قابلِ تعریف ہیں مگر یہ اکیلے اس لعنت کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ جب تک معاشرہ خود شعور کی آنکھ نہیں کھولے گا، اس اندھیرے سے نجات ممکن نہیں۔
اس مسئلے کا حل صرف قانون نہیں بلکہ تعلیم، آگاہی اور اخلاقی تربیت میں پوشیدہ ہے۔ والدین کا کردار سب سے بنیادی ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں پر توجہ دیں، ان کے دوستوں، مصروفیات اور ذہنی کیفیت کو سمجھیں تو بہت سی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح اساتذہ بھی محض تعلیمی رہنما نہیں بلکہ روحانی مربی ہوتے ہیں — انہیں اپنے شاگردوں میں چھپے اضطراب کو پہچاننا ہوگا۔
میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ آج سوشل میڈیا پر فیشن، دکھاوا اور شہرت کی دوڑ میں نوجوان حقیقی اقدار سے دور جا رہے ہیں۔ ایسے میں میڈیا کو چاہیے کہ وہ نشے کے نقصانات، اس کے سماجی اثرات، اور بحالی کے امکانات پر مثبت مہمات چلائے۔
تعلیمی اداروں میں انسدادِ منشیات آگاہی پروگرامز کا باقاعدہ اہتمام ہونا چاہیے۔ طلبہ کو بتایا جائے کہ منشیات صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی موت ہے۔ کھیلوں، علمی مقابلوں اور رضاکارانہ سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں کی توانائی کو مثبت سمت میں لگایا جائے۔ حکومت اگر چاہے تو منشیات کے عادی افراد کے لیے بحالی مراکز (rehabilitation centers) کا دائرہ بڑھا کر ہزاروں زندگیوں کو دوبارہ معاشرے کا مفید حصہ بنا سکتی ہے۔
منشیات کے خاتمے کے لیے ہمیں اجتماعی شعور پیدا کرنا ہوگا۔ یہ صرف حکومت یا پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر باشعور شہری، ہر والدین، ہر استاد اور ہر مذہبی رہنما کا فرض ہے کہ وہ اپنی سطح پر اس برائی کے خلاف آواز اٹھائے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یقین دلانا ہوگا کہ زندگی کا اصل لطف نشے میں نہیں بلکہ محنت، علم، ایمان اور مقصدیت میں ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر آج ہم نے منشیات کے خلاف جہادِ فکری اور عملی مہم نہ چلائی تو آنے والی نسلیں ایک ایسے معاشرے میں سانس لیں گی جہاں خواب بکتے ہوں گے، عزتیں گروی رکھی جائیں گی اور نوجوانی صرف افسوس کی کہانی بن جائے گی۔
منشیات کے خلاف جنگ دراصل زندگی کے حق کی جنگ ہے۔ یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو اس لعنت سے بچائیں، تاکہ ہمارا کل محفوظ، باشعور اور روشن ہو ۔۔ ایسا کل جس میں ہمارے نوجوان قوم کی امید، نہ کہ اس کا المیہ بنیں۔
یوسف صدیقی