لرزاں ہیں ابھی دیکھ کے باہر کی اداسی

ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل

لرزاں ہیں ابھی دیکھ کے باہر کی اداسی
آنکھوں پہ عیاں کیسے ہو اندر کی اداسی

پیوست , مرے سینے سے نکلا تو زمیں پر
کچھ دیر ٹپکتی رہی , خنجر کی اداسی

اک صبح پرندوں نے پڑھا صبر کا نوحہ
اک شام کُھلی پیڑوں پہ منظر کی اداسی

کیوں کوئی خوشی راس نہیں آتی ہے مجھ کو
کیوں ڈھونڈ رہی مجھکو جہاں بھر کی اداسی

جو وحشتِ صحرا کی طرفداری میں گم ہے
لاؤ اسے دکھلاؤ مرے گھر کی اداسی

میں بھانپ گیا تیز ہواؤں کا ارادہ
عجلت میں چراغوں کے برابر کی اداسی

ارشاد سماعت پہ کسی بار کی صورت
خاموش مگر گہرے سمندر کی اداسی

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔