کیا ہمیں بندر بن جانا چاہیے؟

محسن خالد محسنؔ کی ایک اردو تحریر

انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا۔ اسے عقل دی گئی، شعور دیا گیا،تمیز دی گئی اور خیر و شر میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا کی گئی۔اتنی صفات کے برعکس جب یہی انسان اپنی عقل کو ظلم کے لیے استعمال کرے، اپنے شعور کو فریب کا ہتھیار بنا لے اور اپنی طاقت کو کمزور کے گلے کا پھندا بنا دے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی وہ اشرف المخلوقات کہلانے کے لائق رہ جاتا ہے؟ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید بندر بن جانا انسان بنے رہنے سے بہتر ہے کیونکہ بندر کم از کم اپنی فطرت کے خلاف نہیں جاتا جبکہ انسان اپنی فطرت سے بھی غداری کر گزرتا ہے۔
قرآن مجید میں ایک واقعہ آتا ہے کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگوں نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی۔ ہفتے کے دن مچھلی کا شکار منع تھا،اس حکم کو انہوں نے حیلے بہانے سے توڑا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان پر عذاب آیا اور وہ بندر بنا دیے گئے۔ یہ واقعہ صرف جسمانی تبدیلی کی داستان نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی علامت ہے۔ جب انسان حرص اور لالچ میں اندھا ہو جائے تو اس کی صورت چاہے انسانی رہے مگر سیرت بندر سے بھی بدتر ہو جاتی ہے۔
آج کا انسان بھی اسی راستے پر چل رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج چہرے نہیں بدلے، کردار بدل گئے ہیں، دل پتھر کے ہو گئے ہیں اور آنکھوں میں صرف مفاد کا دُھواں بھرا ہے۔ انسان اب انسان کو نہیں دیکھتا بلکہ فائدہ دیکھتا ہے۔ رشتہ ہو یا دوستی ہر چیز ترازو میں تولی جاتی ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ

مطلب نکل گیا تو پہچانتےنہیں

آج کے معاشرے کی یہ سب سے بڑی بیماری ہے۔
لالچ وہ آگ ہے جو پہلے دل کو جلاتی ہے پھر پورے معاشرے کو راکھ کر دیتی ہے۔ ایک شخص جب اپنی دولت بڑھانے کے لیے دوسروں کا حق کھاتا ہے تو وہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں کرتا بلکہ انصاف کی بنیاد ہلا دیتا ہے۔ رشوت خور افسر ہو یا ذخیرہ اندوز تاجر دونوں معاشرے کی ساخت میں وہ دیمک ہیں جو خاموشی سے ستون چاٹتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ بظاہر سوٹ بوٹ میں ملبوس ہوتے ہیں مگر اندر سے جنگل کے درندے ہوتے ہیں۔
تاریخ ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے مفاد کے لیے انسانیت کو نیلام کیا۔ ہٹلر نے اپنی برتری کے جنون میں لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اس کے نزدیک انسان نہیں صرف نسل اہم تھی۔ چنگیز خان نے خون کی ندیاں بہا دیں۔ شہروں کو جلا دیا اور بستیاں راکھ کر دیں۔ فرعون نے اپنی خدائی کے زُعم میں انسانوں کو غلام بنایا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے نفس کو خدا بنا لیا تھا۔
عہدِ حاضر میں اسی روش کو پوری آب و تاب کے ساتھ دُہرایا جس رہا ہے یعنی صرف چہرے بدلے ہیں کردار نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے کچھ بڑے نام ایسے ہیں جو غریب ملکوں کے وسائل کو نچوڑ کر اپنی سلطنتیں قائم کرتے ہیں۔ جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں ، بازاروں میں بھی ہوتی ہیں۔ اسلحہ بیچنے والے امن کی بات کرتے ہیں اور دوا بنانے والے بیماریوں سے منافع کماتے ہیں۔ انسانیت یہاں بھی نیلام ہوتی ہے۔ صرف قیمت بدل جاتی ہے۔
اس گھٹیا سوچ کی ہمارے سماج میں بھی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ وہ بااثر لوگ جو غریب کی زمین پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ وہ اُستاد جو علم بیچتا ہے۔ وہ ڈاکٹر جو مریض کو صرف بِل سمجھتا ہے۔ وہ مذہبی رہنما جو عقیدت کو تجارت بنا لیتا ہے۔ یہ سب انسانی خدو خال میں چھپے ہوئے وہ ناسور ہیں جنہیں دیکھ کر بندر بھی شرما جائے۔
اکیسویں صدی کو ترقی کا زمانہ کہا جاتا ہے مگر یہ ترقی انسان کے دل تک نہیں پہنچی۔ مشینیں جدید ہوئیں مگر جذبات پرانے زخم بن گئے۔ سوشل میڈیا نے رابطے بڑھائے لیکن دلوں کے فاصلے بھی بڑھا دیے۔ آج کسی کی موت روزمرہ خبر سے زیادہ کچھ نہیں۔ چند لمحوں کی اُداسی پھر اگلی تفریح۔ یہ بے حِسی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔
غزہ ہو، کشمیر ہو، ایران ہو یا دُنیا کا کوئی اور خطہ انسانیت روز ذبح ہوتی ہے۔ بچے ملبے تلے دبے ہوتے ہیں اور دُنیا اشتہاری قراردادیں لکھتی رہتی ہے۔ مزے کی بات یہ کہ عورتوں کی عزت بازار کی خبر بن جاتی ہے اور طاقتور صرف تماشائی رہتے ہیں۔ انسانی بے توقیری اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب جانور زیادہ باوفا محسوس ہوتے ہیں۔ کُتا اپنے مالک کا وفادار آج بھی ہے اور انسان اپنے محسن کو کاٹ کھانے کو تیار بیٹھا ہے۔
اقبال نے کہا تھا:

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

یہ شعر آج کے دور کی مکمل تصویر ہے۔ انسان نے سہولتیں تو پیدا کر لیں لیکن احساس کھو دیا۔ دل زندہ نہ ہو تو جسم صرف چلتی پھرتی لاش رہ جاتا ہے۔
یہ صرف سیاسی جبر کی بات نہیں بلکہ اس معاشرتی زوال کی تصویر بھی ہے جہاں سچ بولنا جُرم اور ظلم سہنا معمول بن گیا ہے۔
ایک محاورہ ہے "اندھا بانٹے ریوڑیاں بار بار اپنے/اپنوں کا”۔ یہی حال ہمارے اداروں کا ہے۔ انصاف کمزور کے لیے نہیں طاقتور کے لیے ہے۔ سفارش کے بغیر دروازے نہیں کھلتے اور حق بغیر قیمت کے نہیں ملتا۔ ایسے ماحول میں اخلاقیات کا پودا کیسے اُگے گا؟
حضرت علیؓ سے منسوب قول ہے:”ظلم کرنے والا ظلم سہنے والے سے زیادہ نقصان میں ہے”۔ کیونکہ مظلوم کی آہ زمین سے آسمان تک جاتی ہے۔ مگر آج کا انسان اس آہ سے بے خوف ہو چکا ہے۔ اسے نہ خدا کا ڈر ہے نہ ضمیر کی خلش۔ جیسے پانی سر سے گزر جائے ویسے ہی بے حیائی حد سے گزر چکی ہے۔
شیخ سعدی نے "گلستان” میں لکھا تھا:” بنی آدم اعضائے یکدیگر اند”۔ یعنی انسان ایک جسم کے اعضا کی مانند ہیں۔ اگر ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہوتا ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ ہم دوسروں کے زخم پر نمک چھڑکتے ہیں اور اسے ذہانت سمجھتے ہیں۔ کسی کی ناکامی ہمیں خوشی دیتی ہے اور کسی کی بربادی ہمارے لیے تماشا بن جاتی ہے۔
آج کے انسان کو دیکھا جائے تو وہ اس شیشے کی مانند ہے جو باہر سے چمکتا ہے مگر اندر سے کھوکھلا ہے۔ زبان پر شہد اور دل میں زہر۔ چہرے پر مسکراہٹ اور نیت میں خنجر۔ ایسے انسان سے تو جنگل کا بندر بہتر ہے جو کم از کم منافقت نہیں کرتا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہمیں بندر بن جانا چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم پہلے ہی اخلاقی طور پر بندر نہیں بن چکے؟ جب ضمیر بِک جائے، جب انصاف مر جائے، جب محبت مفاد بن جائے اور جب انسان دوسرے انسان کی عزت کو روند کر آگے بڑھنے لگے پھر صرف شکل انسان کی رہ جاتی ہے روح نہیں۔
ہمیں بندر نہیں انسان بننے کی ضرورت ہے۔ انسان دراصل وہ ہے جو رحم جانتا ہو، شرم رکھتا ہو، انصاف پر قائم ہو اور دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہو۔ اگر یہ انسانی صفات ختم ہو جائیں تو پھر انسان اور بندر میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں۔ اپنے نفس کے فرعون کو پہچانیں۔ اپنی حرص کے ہٹلر کو روکیں اور اپنے دل کے اندھیرے میں روشنی پیدا کریں۔ ورنہ تاریخ صرف یہ نہیں لکھے گی کہ انسان نے ترقی کی بلکہ یہ بھی لکھے گی کہ انسان اپنی انسانیت ہار گیا۔
میرا ذاتی احساس یہ ہے کہ بندر بن جانا مسئلہ نہیں اصل المیہ انسان رہ کر حیوان بن جانا ہے۔ اگر دل مُردہ ہو جائے تو چہرے کی خوبصورتی بے معنی ہے۔ اگر ضمیر زندہ ہو تو فقر بھی بادشاہی ہے۔ انسان کو بندر نہیں بننا چاہیے بلکہ اسے دوبارہ انسان بننا چاہیے۔
دُنیا کو مشینوں سے نہیں انسانوں سے اُمیدیں ہیں۔

محسن خالد محسنؔ

محسن خالد محسن

محمد محسن خالد (محسن خالد محسن) ؔ شاعر ،ادیب،محقق ،نقاد اور اُستاد ہیں۔ ان کے تین شعری مجموعے "کچھ کہنا ہے"،دُھند میں لپٹی شام اور"ت لاش" شائع ہو چکے ہیں۔ا نھوں نے کلاسیکی غزل میں "کلاسیکی غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ" کے موضوع پرناردرن یونی ورسٹی نوشہرہ سے پی ایچ ۔ڈی(اُردو) 2024 میں کی ہے۔بہ حیثیت لیکچرار(اُردو) گورنمنٹ شاہ حسین گریجوایٹ کالج چوہنگ میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کے پنتیس سے زائد تحقیقی مقالات ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے مصدقہ جنرلز میں شائع ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کے معروف ادبی رسائل وجرائد اوربرقی اخبارات و بلاگز میں ان کے متفرق موضوعات پر مضامین اور کالمز باقاعدگی سے شائع ہو تے رہتے ہیں۔ ادب،سماج، معاشرت،سیاست و حالاتِ پر ببانگِ دُہل اپنی رائے کا اظہارکرتے ہیں۔