کچھ تو تعلق کچھ تو لگاؤ

ابن صفی کی ایک اردو غزل

کچھ تو تعلق کچھ تو لگاؤ
میرے دشمن ہی کہلاؤ

دل سا کھلونا ہاتھ آیا ہے
کھیلو توڑو جی بہلاؤ

کل اغیار میں بیٹھے تھے تم
ہاں ہاں کوئی بات بناؤ

کون ہے ہم سا چاہنے والا
اتنا بھی اب دل نہ دکھاؤ

حسن تھا جب مستور حیا میں
عشق تھا خون دل کا رچاؤ

حسن بنا جب بہتی گنگا
عشق ہوا کاغذ کی ناؤ

شب بھر کتنی راتیں گزریں
حضرت دل اب ہوش میں آؤ

ابنِ صفی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔