کیسا رستہ ہے کیا سفر ہے اڑتی ہوئی گرد پر نطر ہے
ڈسنے لگی فاختہ کی آواز کتنی سنسان دوپہر ہے
آرام کریں کہ راستہ لیں وہ سامنے اک گھنا شجر ہے
خود سے ملتے تھے جس جگہ ہم وہ گوشۂ عافیت کدھر ہے
ایسے گھر کی بہار معلوم جس کی بنیاد آگ پر ہے
باقی صدیقی
ایک اردو نظم از محمد یوسف برکاتی
تجدید قیصرکی ایک اردو غزل
اردو غزل از بشیر بدر
محمد یوسف میاں برکاتی کی ایک اردو نظم
ایک اردو غزل از ایم اے دوشی