کہیں زمیں تو کہیں آسماں پسند کیا

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

کہیں زمیں تو کہیں آسماں پسند کیا
سفر پسند تھے رکنا کہاں پسند کیا

چراغ اور کسی قافلے کے ساتھ گئے
ہوا نے اور کوئی کارواں پسند کیا

وہ کیا پرند تھے ہجرت میں کٹ گئی جن کی
نہ سبز شاخ نہ آبِ رواں پسند کیا

بچھڑ کے تجھ سے کسی سے نہ راہ و رسم رہی
کسی سے دل نے بھی ملنا کہاں پسند کیا

فقیر لوگ تھے نام و نمود سے بیزار
نہ عزّو جاہ نہ نام و نشاں پسند کیا

دیے کی لو سے لرزتے تھے تیرہ زاد سبھی
بجھے چراغ کا سب نے دھواں پسند کیا

جو کج سخن تھے وہ خائف تھے میرے لہجے سے
سخن وروں نے تو حسن ِ زباں پسند کیا

حیات و موت کے مابین کشمکش میں تھا
اور اس نے مجھ کو اسی درمیاں پسند کیا

مثال ِ موجہ ء بادِ رواں تھے ہم ارشاد
سو ہم نے مسلکِ آوارگاں پسند کیا

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔