کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

افسانچہ از منزہ گوئیندی

سنگ مر مر کی دیوار پر ٹنکی رنگین تصویر یں اپنی صدائے بازگشت کو دہرا رہی تھیں ۔ جن پر ڈوبتے سورج کی رنگین شعاعیں نقاش کے طلسماتی عکس کو نمایاں کر رہی تھیں ۔ میں نے ہمہ تن شوق و التجا ہو کر نقاش سے کہا ،،، کئی مسافتیں طے کر کے تم تک رسائی حاصل کی ہے ۔ سنا ہے کہ تم فن نقاشی میں یکتا ہو ! کیا تم خیالات و جذبات کو تصویر میں مقید کر سکتے ہو ؟؟؟ نقاش بولا حقیقی مصور خیالات و جذبات تصویر میں اس خوبی سے بھر دیتا ہے کہ وہ اس وقت بھی زندہ رہتی ہے جب اسکا زندہ رہنا ناممکن ہو ! یہ کہہ کر نقاش نے ایک خاکہ تیار کیا جو رنگوں سے عاری تھا ۔۔۔ میری سوالیہ نگاہوں کو دیکھتے ہوئے اس کے لب گویا ہوئے کہ اس کی رنگ آمیزی تمناؤں کے خون سے ہو گی !!!!

منزہ گوئیندی

منزہ انور گوئیندی

تعارف منزہ انور گوئیندی کا تعلق ادبی گھرانے سے ہے ان کے والد انور گوئیندی کا شمار مشاہیر ادب میں ھوتا ھے اور وہ اردو ادب کے بانیوں میں سے ھیں ۔ سرگودھا میں کامران مشاعرے اور کامران رسالے کے ذریعے انہوں نے ادب کی آبیاری کی ان کی وفات کے بعد یہ مسند ان کی اکلوتی بیٹی منزہ انور گوئیُندی نے سنبھالی جو ایک نامور افسانہ نگار ، کالم نگار اور شاعرہ ھونے کے ساتھ ساتھ کامران ادبی رسالہ کی مدیرہ بھی ہیں ۔ منزہ انور گوئیندی عالمی شہرت یافتہ قلمکار اور صدا کار ہیں ۔ گزشتہ بیس سال سے ریڈیو پاکستان سے منسلک ھیں اور علمی و ادبی پروگرام پیش کر رہی ھیں ۔ منزہ انور گوئیُندی کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈز اور اعزازات اور میڈلز دیے جا چکے گئے ھیں ۔ حال ھی میں دورہ برطانیہ کے دوران انہیں سفیر ادب کا خطاب بھی عطا کیا گیا ۔ اور ان کے اعزاز میں سکاٹ لینڈ بین الاقوامی مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا منزہ گوئیندی کے خاندان کا شمار کارکنان تحریک پاکستان میں ھوتا ھے اور اس ضمن میں انہیں سابق صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سے گولڈ میڈل بھی دیا گیا