جھگڑنا کاہے کا میرے بھائی پڑی رہے گی

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

جھگڑنا کاہے کا میرے بھائی پڑی رہے گی
یہ باپ دادا کی سب کمائی پڑی رہے گی

اندھیرے کمرے میں رقص کرتی رہے گی وحشت
اور ایک کونے میں پارسائی پڑی رہے گی

ہوا کی منت کرو کہ گھر کے دیے بجھے تو
اداس ہو کر دیا سلائی پڑی رہے گی

ہماری نظروں سے اور اوجھل اگر ہوئے تم
زمانے بھر کی یہ روشنائی پڑی رہے گی

تمہارے جانے کے بعد کیسی محلے داری
یقین کر لو بنی بنائی پڑی رہے گی

تمہارے ہاتھوں کا لمس کافی ہے لوٹ آؤ
میں ٹھیک ہو جاؤں گی دوائی پڑی رہے گی

بزرگ رخصت ہوئے ہیں لیکن بر‌ آمدے میں
پرانے وقتوں کی چارپائی پڑی رہے گی

کومل جوئیہ

کومل جوئیہ

اصلی نام۔۔۔۔ شازیہ خورشید - قلمی نام۔۔۔۔ کومل جوئیہ - جائے پیدائش۔۔۔۔۔کبیروالا- سکونت۔۔۔۔۔ملتان- تعلیم ۔۔۔۔۔ایم۔اے سیاسیات ، بی ایس اردو ، بی ایڈ- تصانیف ۔۔۔۔۔۔غزل کی تین کتب- اول۔۔۔۔۔ایسا لگتا ہے تجھ کو کھو دوں گی 2013- دوم ۔۔۔۔۔ہاتھ پہ آئی دستک 2023- سوم ۔۔۔۔۔دھوپ نہاتی بارش 2024-