جب سہولت نہیں ہے جینے کی

ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل

جب سہولت نہیں ہے جینے کی
کیوں ریاست کہوں مدینے کی

صبر صابر کو راس آئے اگر
راکھ پھیلے نہ بغض , کینے کی

آدھے راشن پہ ختم ہوتی ہے
سب کمائی لہو پسینے کی

خود کی تشہیر تک رہا محدود
یہ بھی عادت تھی اس کمینے کی

حاکمِ وقت سن مرا گریہ
دیکھ حالت بھی سرخ سینے کی

اپنے بچوں کو ہم سنائیں گے
داستاں ڈوبتے سفینے کی

صرف دل کی بھڑاس ہی نہ سمجھ
کچھ سمجھ بات بھی قرینے کی

صبح کے آئنے پہ کھل نہ سکی
کیا بلندی ہے شب کے زینے کی

راستہ کھولتی ہے نظموں کا
جب مہکتی ہے مٹی دینے کی

بس طریقِ حصول کھلتا نہیں
کب کمی ہے کسی خزینے کی

گھر میں کھانا اگر میسر ہو
کیا ضرورت ہے زہر پینے کی

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔