اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے

حسنین رافی کی ایک اردو غزل

اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے
بکھرا ہوا ہر ایک گھرانہ کیوں ہے

اس شہر کے سیانے کہاں چلے گئے
اس شہر میں ہر ایک دیوانہ کیوں ہے

جب ہم سے کوئی جرم سرزد نہیں ہوا
تو ہمارا انداز اتنا مجرمانہ کیوں ہے

ہم بھاگے تو بہت پر پتھر سر پہ لگے
نہ جانے اتنا اچھا لوگوں کا نشانہ کیوں ہے

جو شخص گزرا ہے بادشاہ تو نہیں ہے
پھر اس کا انداز اتنا شاہانہ کیوں ہے

جو انداز مجھ سے برتا گیا ہے
سخت تکلیف دہ ہے، دوستانہ تو نہیں ہے

اس شہر میں اپنائیت کیوں محسوس نہیں ہوتی رافی
ہر ایک اپنا ہے، کوئی بیگانہ تو نہیں ہے

حسنین رافی

حسنین رافی

میرا نام محمد حسنین خان ہے اور میرا تخلص رافی ہے۔ میرا تعلق میانوالی کے ایک چھوٹے سے گاؤں غنڈی سے ہے۔ میرے والد صاحب کا نام احمد نواز ہے۔ میری تاریخِ پیدائش 15 ستمبر 2010ء ہے اور میں میٹرک کا طالب علم ہوں۔ میں نے بارہ سال کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا اور میری پہلی تخلیق ایک حمد تھی۔ مجھے اردو شاعری میں آج تک کسی استاد کی رہنمائی یا شاگردی نصیب نہیں ہوئی۔ میں نے اپنے ذاتی شوق، مطالعے اور مسلسل مشق کے ذریعے شاعری کا سفر جاری رکھا ہے۔میرے علاقے میں اردو شاعری کو زیادہ فروغ حاصل نہیں، جس کی وجہ سے مجھے اس فن کو سیکھنے اور کسی استاد کی صحبت میں رہنے کا موقع نہیں مل سکا۔ میں نے اپنی کوشش اور ذاتی مطالعے کے ذریعے ہی شاعری سیکھنے کی کوشش کی ہے۔میں اپنی شاعری کو کامل نہیں سمجھتا اور اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میرے کلام میں اصلاح اور بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ میری خواہش ہے کہ میری تخلیقات اہلِ ادب تک پہنچیں اور مجھے اپنے ادبی سفر کو آگے بڑھانے اور اپنی شاعری کو نکھارنے کا موقع ملے۔