ایران اور امریکہ کی دشمنی کا آغاز 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد ہوا، جب ایران نے امریکی سفارتخانے پر قبضہ کیا اور عملے کو قید کر لیا۔ اس واقعے نے اعتماد کو ہمیشہ کے لیے نقصان پہنچایا اور امریکہ نے پہلی بار ایران پر وسیع اقتصادی و سیاسی دباؤ شروع کیا۔ اس سے پہلے دونوں ملکوں کے تعلقات بہت خوشگوار تھے۔ رضا شاہ پہلوی ایرانے بادشاہ امریکا کا اتحادی تھا۔
اس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل کشیدہ رہے، خاص طور پر جب امریکہ نے ایران کے ساتھ2015ء میں جوہری معاہدہ JCPOA کیا، جسے 2018ء میں امریکی صدر کے فیصلے پر یکطرفہ طور پر ترک کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے امریکی حکومت نے سخت اقتصادی پابندیاں ایران کے خلاف لگائیں، جن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل سسٹم، اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کو روکنا بتایا جاتا تھا۔
امریکہ کی طرف سے پابندیوں کے اسباب
1۔ جوہری پروگرام کا خوف
امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی شک رکھتے تھے کہ ایران جوہری توانائی پروگرام کو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے بڑھا رہا ہے، حالانکہ ایران کا مؤقف تھا کہ یہ پروگرام توانائی کے سول مقاصد کے لیے ہے۔ اس بنا پر عالمی پابندیاں عائد کی گئیں۔
2۔ علاقائی طاقت اور فوجی توانائی
ایران نے خطے میں حوثی باغیوں، حزب اللہ، اور دیگر گروہوں کو مالی و عسکری مدد دی، جسے امریکہ نے اپنے اور اسرائیل کے مفادات کے خلاف جانا۔ یہاں تک کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور فوجی طاقت کی تنصیبات پر بھی امریکی تشویش رہی۔
3۔ امریکہ کے عالمی اسٹریٹجک مفادات
امریکہ نے خلیج فارس میں اپنے اتحادیوں (مثلاً اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات) کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا، اور ایران کی طاقت کو علاقائی عدم استحکام کے طور پر دیکھا۔
نتیجتاً، پابندیاں نہ صرف ایران کی صنعت اور مالیات پر اثرانداز ہوئیں بلکہ عام عوام کی زندگی، کاروبار، اور معاشی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔
ایران–اسرائیل تنازع اور حالیہ جنگ
ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع ایک لمبے عرصے سے جاری جغرافیائی اور نظریاتی تنازع ہے۔ 1979ء کے بعد ایران نے اسرائیل کو علاقائی خطرہ قرار دیا اور اسرائیل نے بھی ایران کی عسکری اور جوہری صلاحیت کو اپنا دشمن سمجھا۔
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے، جن کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں اور نیوکلیٔر پروگرام کو تباہ کرنا تھا۔ امریکہ نے اسے خود دفاع اور خطے میں عدم استحکام کو روکنے کا جواز بتایا۔ حالانکہ یہ سرا سر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھی
اس فوجی آپریشن میں سینکڑوں مختلف مقامات (سکول۔ کالج۔ہسپتال عوامی حلقے ) نشانہ بنائے گئے، یہ بین الاقوامی دہشت گردی اور درندگی کی بہترین مثال تھی۔ پھر ایران نے جوابی میزائل حملے کیے، جس نے خطے کے متعدد ممالک کو متاثر کیا۔ خطے میں جہاں جہاں امریکی اڈے تھے ان پر حملے کئے۔
خطے پر اثرات
یہ جنگ صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہی۔ ایران کی طرف سے گلف ممالک، اسرائیل، اور امریکہ کے فوجی ٹھکانوں کو میزائلوں اور ڈرون سے نشانہ بنایا گیا، جس کی وجہ سے توانائی کی مارکیٹوں میں اتارچڑھاؤ اور عالمی اقتصادی عدم استحکام پیدا ہوا۔
دو ہفتے کی جنگ بندی کا معاہدہ
اپریل 2026ء میں دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا جسے پاکستان کی ثالثی کے ذریعے عمل میں لایا گیا۔
امریکہ اور اسرائیل۔ایران پر حملے روک دیے۔ ایران نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو عارضی طور پر کھولنے پر رضامندی ظاہر کی، جو عالمی تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے۔
دونوں جانب ردعمل
•ایرانی عوام: کچھ نے خوشی ظاہر کی، لیکن بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ جنگ بندی محض وقتی وقفہ ہے اور ان کا اعتماد امریکہ پر ختم نہیں ہوا۔
•عالمی تجزیہ کاراسے ایک وقتی توقف قرار دے رہے ہیں، جس سے خطے کے دیرپا ایشوز حل نہیں ہوئے اور دوبارہ کشیدگی کا امکان موجود ہے۔
ایران کا مؤقف
•ایران نے ہمیشہ خود کو دفاعی ریاست اور خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے دعوے سے پیش کیا۔ جو کہ اس کا حق ہے۔
•ایران کے عوام نے تاریخی طور پر امریکہ پر مبینہ مداخلتوں، پابندیوں اور دباؤ کا سخت ردعمل دیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کا موقف
• ان کا دعویٰ ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام اور علاقائی اثرورسوخ امن و سلامتی کے لیے خطرہ تھا۔
• وہ ایران کے طاقت کے پھیلاؤ اور عسکری صلاحیتوں کا مقابلہ کرنا چاہتے تھے۔ دونوں ملک اپنے گریباں میں بھی جھانکیں۔ انہیں چاہیئے کہ اپنے ایٹمی اثاثے بھی ختم کریں۔جو کمزور اور ضیر ایٹمی طاقتوں کو دہشت کے طور پراستعمال کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
عالمی تناظر
دنیا بھر نے جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا ہے تاکہ عالمی معیشت، توانائی کی مارکیٹ، اور انسانی جانوں کی حفاظت ممکن ہو سکے۔
خلاصہ
امریکہ کی پابندیاں ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک صلاحیتوں کے اعلٰی خدشات پر مبنی تھیں، جبکہ ایران نے اسے بے جا دباؤ قرار دیا۔
• فروری 2026ء کی جنگ میں امریکہ اور اسرائیل نے بڑے حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے جوابی کارروائیاں کیں۔
• دو ہفتے کی جنگ بندی نے لمحاتی امن لایا، مگر بنیادی مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔
عابد خان لودھی