ایران کے10بڑے مطالبات
1۔ ناجائز جارحیت بند ہونا۔ جنگ بندی اور کسی بھی قسم کی غیر متوقع جارحیت (جیسے فوجی حملے) کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا۔
2۔ ایک باقاعدہ غیر جارحیت (non aggression) معاہدہ جو دونوں طرف کی فوجی کارروائیوں کو روکے۔
3۔ سٹریٹ آف ہرمز پر کنٹرول۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) پر اس کا قانونی کنٹرول ہونا چاہیے، اور
امن و آمد و رفت کے قواعد کا تعین ایران خود کرے۔ (Recognition of authority over Strait of Hormuz)
4۔ یورینیم افزودگی کے حقوق کی تسلیم۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ اس کے یورینیم افزودگی (uranium enrichment) کے حقوق کو
قبول کیا جائے، بشرطیکہ وہ عالمی ضوابط کے تحت ہو۔ (Recognition of uranium enrichment rights)
5۔ امریکہ کی پابندیوں کا خاتمہ۔ تمام امریکی پابندیاں (sanctions) ختم ہوں، بشمول پرائمری اور سیکنڈری پابندیوں کے، جو
ایران کی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ (Lifting of US sanctions)
6۔ اقوام متحدہ؍IAEA قراردادوں کا خاتمہ۔ ایران چاہتا ہے کہ یو این اور IAEA کی سخت قراردادیں ختم ہوں، جو اس کے جوہری
پروگرام پر دباؤ ڈالتی رہی ہیں۔(Termination of certain UN؍IAEA resolutions)
7۔ ریجن سے امریکی فوجی انخلا۔ خطے میں تمام امریکی فوجی اڈوں اور دستوں کا انخلا ہونا چاہیے تاکہ تناؤ کم ہو۔
8۔ جنگی نقصان کا معاوضہ۔ ایران مطالبہ کرتا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصان (جیسے انفراسٹرکچر تباہی) کے
لیے معاوضہ دیا جائے۔(Reparations for war damage)
9۔ تمام محاذوں پر جنگ بندی۔ ایران چاہتا ہے کہ صرف ایران کے خلاف نہیں بلکہ تمام محاذوں پر جنگ بندی ہو، بشمول حزب اللہ
وغیرہ کے خلاف بھی۔
10۔ مستقبل کے تنازعات کا حل۔ ایران نے زور دیا ہے کہ صرف وقتی جنگ بندی نہیں بلکہ مسائل کے دائمی حل کے لیے جامع
مذاکرات ہوں۔
(Long term political solution)
امریکہ کے 15 نکاتی پلان کا مقصد، یہ پلان بنیادی طور پر ایران اور امریکہ؍اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی کو ختم کرنا اور ایک طویل المدتی امن معاہدے کی بنیاد رکھنا چاہتا تھا۔ اس میں امریکہ نے ایران کے سامنے شرائط اور توقعات رکھی تھیں جو اگر قبول ہو جائیں تو جنگ بندی ممکن ہو سکتی تھی۔
15 نکات ، مختصر خلاصہ
یہ منصوبہ دراصل بہت سی سفارتی، عسکری اور جوہری شرائط پر مشتمل تھا۔ چونکہ پورا 15 نکات کا سرکاری متن عموماً عوامی طور پر دستاویزی شکل میں شائع نہیں ہوا، لیکن میڈیا رپورٹس اور لیک معلومات کے مطابق اس میں درج ذیل اہم نکات شامل تھے:
1۔ ایران کو جنگ بندی پر رضامند ہونا اور معاملے کو مذاکرات کے ذریعے طے کرنے کی تیاری۔
2۔ ایران کے موجودہ جوہری ہتھیار یا متعلقہ صلاحیتوں کو ختم کرنا۔
3۔ ایران کو جوہری ہتھیار نہ بنانے کا قانونی اور مستقل وعدہ کرنا۔
4۔ ایران کے یورینیم افزودگی (uranium enrichment) کو روکنا۔
5۔ ایران کے پاس موجود enriched uranium اسٹاک (جوہری مادہ) کو بین الاقوامی نگرانی (IAEA کے تحت) میں دینا۔
6۔ ایران کے اہم جوہری تنصیبات (جیسے نطنز وغیرہ) پر مکمل نگرانی۔
7۔ متنبہ بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنا (صرف دفاعی استعمال)۔
8۔ مختلف علاقائی عسکری گروہوں کی حمایت بند کرنا (مثلاً حزب اللہ، حوثی وغیرہ)۔
9۔ ان گروہوں کو فنانسنگ، ہتھیار اور امداد فراہم نہ کرنا۔
10۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو ایک آزاد سمندری راستہ قرار دینا جہاں ہر ملک کا بحری جہاز بلا روک ٹوک گزر سکے۔
11۔ مزید صنفی پابندیوں اور پابندیوں کی واپسی امریکی؍بین الاقوامی فریم ورک کے مطابق۔
12–15۔ مزید دوسری شرائط جیسے کہ بین الاقوامی نگرانی، سلامتی گارنٹی، اقتصادی تعاون، ٹریفک اور تیل کی رسد کے ضوابط وغیرہ (تفصیل تک میڈیا تک نہیں پہنچیں)۔
عابد خان لودھی