ہم تو سجدے بھی کیا کرتے تھے

رشید حسرت کی ایک اردو غزل

ہم تو سجدے بھی کیا کرتے تھے اک ایک کے بعد

پر وہ الزام دھرا کرتے تھے اک ایک کے بعد

ہم کو نفرت کی نظر بھی نہ ملی ہے تم سے

لوگ قربت میں رہا کرتے تھے اک ایک کے بعد

مان لیتا ہوں کسی نے نہیں چھیڑے گھاؤ

پر نمک لے کے وہ کیا کرتے تھے اک ایک کے بعد

تم نے کانوں میں تکبّر کی رئی ٹھونسی تھی

ہم تو آواز دیا کرتے تھے اک ایک کے بعد

ہم اسی سوچ میں تھے جا کے کہاں پر بیٹھیں

لوگ تشریف رکھا کرتے تھے اک ایک کے بعد

ہم بھی قیدی تھے کئی اور پرندوں کی طرح

اور صیّاد رہا کرتے تھے اک ایک کے بعد

زخم ہمدرد رفیقوں سے کہیں بڑھ کے رشیدؔ

آ کے سینے سے لگا کرتے تھے اک ایک کے بعد

رشید حسرتؔ

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔