ہو جائے اگر مجھ کو اک رات مدینے میں

ایک اردو نعتﷺ از ڈاکٹر الیاس عاجز

ہو جائے اگر مجھ کو اک رات مدینے میں
اک صبحِ درخشاں کی ہو جھات مدینے میں

کشکولِ تمنّا میں بھر لوں گا تجلّی کو
بٹتی ہے سدا نُوری خیرات مدینے میں

طیبہ کی ہواؤں نے چھیڑا ہے وہ اک نغمہ
آتی ہے نظر اپنی اوقات مدینے میں

منصور و غُزالی بھی پاتے ہیں سکوں اپنا
حل ہوتے ہیں محنت کے شہ مات مدینے میں

آدم سے مسیحا تک صف بستہ کھڑے دیکھے
ہوتی ہے عجب رنگ کی مِلاقات مدینے میں

ہجرِ شہِ والا میں یہ آنکھ جو روئی ہے
بن جائے گی یہ مینہ کی برسات مدینے میں

ایمان کے پودے کو خوشبو کی ضرورت ہے
ملتی ہے وہی پاک سی سغات مدینے میں

خاموشی کے عالَم میں بھی گونجتی ہے نعتیں
سُنتا ہوں میں خاموش جَمادات مدینے میں

تلوار کی ہِیبت سے یہ دین نہیں پھیلا
جیتے ہیں دِلوں کو مِرے سادات مدینے میں

عِرفان کے دریا میں غوطے جو لگائے ہیں
بدلے ہیں مرے سب ہی خیالات مدینے میں

عاجزؔ کی جبیں جھک کر محرابِ وفا بن جائے
لکھ دوں میں عقیدت کی مناجات مدینے میں

ڈاکٹر الیاس عاجزؔ