ہوا میں جلتے چراغ رکھنا

ثمر راحت ثمر کی ایک اردو غزل

ہوا میں جلتے چراغ رکھنا
امید شام فراغ رکھنا

نظر میں رکھنا رتوں کی ہلچل
تو فصل گل کے سراغ رکھنا

اگر جلاو وفا کی شمعیں
دعاکے روشن چراغ رکھنا

نہ بھول پاو کسی ستم کو
جلا کے بھی دل کے داغ رکھنا

اندھیرے کا کچھ گلہ نہ کرنا
اندھیری شب میں چراغ رکھنا

ثمر راحت ثمر