ہر ایک کو سلام کیے جاتا ہوں
یہ کلمہ عام کیے جاتا ہوں
عیب پوشی کرتا ہوں، جن کو نصیحت
خود انہیں کو بدنام کیے جاتا ہوں
گناہ نہ کرنے کی کرتا ہوں تلقین سب کو
اور یہی عمل میں سرِعام کیے جاتا ہوں
کون جنتی، کون دوزخی، فیصلہ خدا کے ہاتھ میں
مگر یہاں میں ہی تہہ انجام کیے جاتا ہوں
اوروں کو روکتا ہوں جن سے، رافی
آخر میں میں خود وہی کام کیے جاتا ہوں
حسنین رافی