فوج پر تنقید : پاکستان کے لیے خطرہ

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

فوج، جس نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کو سہارا دیا اور پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کی، ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہ محض ایک ادارہ نہیں، بلکہ ہماری قوم کی ریڑھ کی ہڈی، سرحدوں کی محافظ، اور عوام کے لیے یقین کا سہارا ہے۔ تاریخ میں اس کی خدمات کی مثالیں روشن ہیں: جنگوں، قدرتی آفات اور دہشتگردی کے خلاف محاذ پر پیش کی جانے والی بے پناہ قربانیاں ہر پاکستانی کے لیے تحفظ اور استحکام کی ضمانت بنی ہیں۔

لیکن آج کے سوشل میڈیا کے دور میں، کچھ لوگ پردے کے پیچھے چھپ کر بلاوجہ فوج پر تنقید کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا یہ رائے ہے یا وطن دشمنی کی عکاسی؟ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ فوج پر تنقید کا حق ہر شہری کو حاصل نہیں ہے۔ فوج ایک ادارہ ہے جس نے ہر خطرے کے وقت قوم کی حفاظت کی، اور اس کی عزت پر انگلی اٹھانا براہِ راست قومی سلامتی اور عوام کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔

دوسری جانب، حکومت پر رائے اور تنقید ہر شہری کا حق ہے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سرکاری فیصلوں، پالیسیوں اور اقدامات پر نظر رکھیں اور ضرورت پڑنے پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔ یہ جمہوری اصولوں کی بنیاد ہے۔ مگر یہ حق بھی ذمہ داری کے ساتھ استعمال ہونا چاہیے۔ بلا تحقیق، افواہوں یا جذباتی الزام تراشی سے قوم میں انتشار اور بداعتمادی پیدا ہو سکتی ہے، جو ملک کے استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔

سوشل میڈیا ایک طاقتور ہتھیار ہے۔ یہ ہمیں اپنی رائے ظاہر کرنے کی آزادی دیتا ہے، مگر اگر یہ آزادی تحقیق اور حقائق کے بغیر استعمال ہو تو خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ آج کے دور میں، جہاں ہر شخص بلا سوچے سمجھے اپنا موقف پیش کر سکتا ہے، فوج کے خلاف بلاوجہ الزامات لگانا آسان ہے، مگر اس آسانی کے نتائج قوم میں انتشار، نوجوانوں کی ذہنی کیفیت پر منفی اثرات، اور دشمن کے لیے مواقع پیدا ہونا ہیں۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ فوج کے بغیر ملک ایک کمزور ریاست بن جائے گا۔ فوج نہ صرف دشمن کے خلاف لڑتی ہے بلکہ اندرونی امن اور ترقی کے لیے بھی اپنی جانیں خطرے میں ڈالتی ہے۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے: ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوج کی قربانیوں کا احترام کرے، چاہے وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو۔ رائے دینا حق ہے، لیکن وطن کی محبت، حقیقت پسندی اور ذمہ داری کے بغیر یہ حق محض زہر بن جاتا ہے۔ فوج کی عزت ہماری عزت ہے؛ اور فوج پر حملہ، پاکستان پر حملہ ہے۔ آج اگر ہم اپنے اداروں کا احترام نہیں کریں گے تو کل کے امن اور سلامتی کے خواب بھی خطرے میں پڑ جائیں گے۔

یہ وقت ہے سوچنے، احساس کرنے اور اپنی رائے کے اثرات کو سمجھنے کا۔ پاکستان کی فوج کی ساکھ پر انگلی اٹھانے سے پہلے یاد رکھیں: یہ فوج ہی ہے جس نے ہمیں مضبوط بنیادیں، محفوظ ماحول اور قومی استحکام دیا۔ جو لوگ اس قربانی کو نظر انداز کرتے ہیں، وہ صرف اپنے سیاسی یا ذاتی ایجنڈے کے لیے ملک کی بنیادیں ہلا رہے ہیں۔

یوسف صدیقی

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔