ڈوبتے چاند کا آخری منظر ایک مطالعہ

تبصرہ : مدثر عباس

خیبر پختونخوا اور بالخصوص پشاور میں اُردو افسانے کے خدوخال اور روایت کے آثار تقسیمِ ہند کے بعد نمایاں ہوتے ہیں۔ جدید افسانے کے حوالے سے خالد سہیل ملک اور سید زبیر نے اپنا لوہا منوایا ہے۔ اُنہوں نے پشاور کے اُردو افسانے میں سماجی، نفسیاتی اور علامتی موضوعات کو روشناس کرایا۔ اِس کے ساتھ ​مشتاق شباب نے ابتدا میں مائیکروفکشن پر طبع آزمائی کی اور اکثر ناقدین اُنہیں اُردو کا پہلا مائیکروفکشن نگار مانتے ہیں تاہم اس رائے میں اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔

​پشاور میں اُردو افسانہ نگاری کے میدان میں خواتین نے بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ جن میں آسیہ بی بی کا نام نمایاں ہے۔ آپ شعبۂ درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور اِس وقت گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج، نحقی (پشاور) میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ آپ کے اُردو افسانوں کا پہلا مجموعہ "ڈوبتے چاند کا آخری منظر” نومبر 2025ء میں کونپلیں پبلشرز، پشاور نے شائع کیا۔ یہ کتاب کل 20 افسانوں پر مشتمل ہے۔
​آسیہ بی بی نے اپنے افسانوں میں غربت، عورتوں پر ظلم و ستم، ہوس اور معاشرتی طنز کو موضوع بنایا ہے۔ "سورج گرہن”، "نامہ بر تو ہی بتا”، "پھولوں کے جنازے” اور "سلمٰی” آپ کے مشہور افسانے ہیں۔ آپ کے افسانوں میں معاشرتی اور سماجی زندگی سے گریز (فرار) کا پہلو نمایاں ہے جو تانیثی ادب کا خاصہ ہے۔ اِس سلسلے میں افسانہ "سورج گرہن” سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

​”اچانک کسی نے لال نوٹوں کی گڈی اُس کی طرف پھینکی۔ ہر طرف نوٹ ہی نوٹ بکھر گئے۔ کہیں سو روپے کے نوٹ نسرین کی جھولی میں جا گرے۔ روپوں کو اکٹھا کرنے کے لیے انمول ڈانس کرتی ہوئی نسرین کی طرف بڑھی اور اس کی گود سے روپے چننے لگی۔ اُس کے ناپاک ہاتھوں کے لمس کا سوچ کر نسرین کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اُس نے رعونت سے انمول سے کہا:
"جا بے حیا! مجھے ہاتھ مت لگا۔” (1)

​یہ افسانہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتوں کا عکاس ہے۔ پدر سری نظام میں عورت کا استحصال اور اُسے کمزور سمجھنا اِس معاشرے کا خاصہ ہے جو اس افسانے میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں آسیہ بی بی نے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بھی قلم اٹھایا ہے اور غریب طبقے پر ہونے والے جبر کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔ آپ کے افسانے "گوشت” سے اقتباس ملاحظہ ہو:

​”گلی کے نکڑ پر ہر روز قلفی والا قلفی بیچنے آتا تھا۔ سو وہ ریحان کو شادی ہال میں چھوڑ کر قلفی خریدنے کی نیت سے باہر کی طرف لپکا۔ اس نے جیب کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کی نظر سگریٹ کی ڈبیا پر پڑی۔ ایک لمحے کے لیے وہ سوچ میں پڑ گیا مگر پھر فوراً اپنی توجہ قلفی کی طرف مبذول کر لی۔
"چور چور، مارو، بھاگنے نہ پائے۔۔۔”
شادی ہال کی طرف سے آنے والی بے ہنگم آوازوں کے تعاقب میں قادر نے ہال کی جانب دیکھا مگر بے سود۔۔۔” (2)

​اِن موضوعات سے واضح ہوتا ہے کہ مصنفہ فرسودہ نظام کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور اپنے افسانوں کے ذریعے جبر و ظلم کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں۔ اُن کے افسانوں میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک توانا احتجاج موجود ہے۔
​آسیہ بی بی کے افسانے بہت مختصر ہیں اور اسی اختصار نے اُن میں ایک خاص چاشنی پیدا کی ہے۔ اُن کے افسانے فکری اعتبار سے تو مربوط ہیں لیکن فنی طور پر کچھ کمزور نظر آتے ہیں۔ چوں کہ یہ مصنفہ کی ابتدائی کاوش ہے اس لیے افسانوں میں خوبیوں کے ساتھ ساتھ کچھ خامیاں بھی موجود ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ مستقبل میں آسیہ بی بی پشاور کے اُردو افسانے میں ایک اہم نام کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں گی۔

​مدثر عباس
25 جون 2026ء

مدثر عباس

مدثر عباس کا تعلق ضلع مردان کے نواحی علاقے لوند خوڑ سے ہے۔ وہ جامعہ پشاور میں اُردو زبان و ادب(ایم فل) کے طالبِ علم ہیں اور علمی و فکری جستجو سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ تاریخ اور تاریخی کتب سے خاص شغف ان کے مطالعے کو وسعت بخشتا ہے، جب کہ مسلسل اور وسیع مطالعہ ان کی فکری تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف سیاسی، سماجی اور تاریخی موضوعات پر وقتاً فوقتاً قلم اُٹھاتے ہیں، جہاں ان کی تحریروں میں مطالعے کی گہرائی اور سنجیدہ فکری رجحان جھلکتا ہے۔