دل آشفتہ پہ الزام کئی یاد آئے

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

دل آشفتہ پہ الزام کئی یاد آئے
جب ترا ذکر چھڑا نام کئی یاد آئے

تجھ سے چھٹ کر بھی گزرنی تھی سو گزری لیکن
لمحہ لمحہ سحر و شام کئی یاد آئے

ہائے نوعمر ادیبوں کا یہ انداز بیاں
اپنے مکتوب ترے نام کئی یاد آئے

آج تک مل نہ سکا اپنی تباہی کا سراغ
یوں ترے نامہ و پیغام کئی یاد آئے

کچھ نہ تھا یاد بجز کار محبت اک عمر
وہ جو بگڑا ہے تو اب کام کئی یاد آئے

خود جو لب تشنہ تھے جب تک تو کوئی یاد نہ تھا
پیاس بجھتے ہی تہی جام کئی یاد آئے

جمیل الدین عالی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔