ٹیکنالوجی کی جدت جہاں سہولت کے دروازے کھول رہی ہے، وہیں یہ انسانی آزادیوں کے گرد ایک ایسا غیر مرئی حصار بھی بن رہی ہے جسے توڑنا ناممکن نظر آتا ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی کے نام پر برپا ہونے والا یہ انقلاب کیا واقعی معاشی ترقی ہے یا یہ ہمیں ایک ایسی ‘ڈیجیٹل غلامی’ کی طرف لے جا رہا ہے جہاں ہمارا رزق اور ہماری پہچان کسی کے ایک ‘کلک’ کے محتاج ہوں گے
"انسانی تہذیب کی تاریخ میں غلامی کی زنجیریں ہمیشہ بدلتی رہی ہیں۔ کبھی یہ لوہے کی بیڑیوں کی صورت میں انسانی جسموں کو جکڑتی تھیں، پھر یہ معاشی قرضوں اور سود کے جال میں بدل گئیں، اور اب ہم ایک ایسے دور کی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں یہ زنجیریں کمپیوٹر کے غیر مرئی ضابطوں سے تیار کی جا رہی ہیں۔ آج کے دور میں ہر مادی چیز کو برقی نظام میں منتقل کرنے کے عمل کو بڑی خوبصورتی سے سہولت اور جدت کا نام دے کر بیچا جا رہا ہے، لیکن اس چمکتی ہوئی سطح کے نیچے مرکزی بینکوں کی جاری کردہ "عددی کرنسی” کی صورت میں ایک ایسی نئی اور مطلق غلامی کا ڈھانچہ چھپا ہوا ہے جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔
عام نجی برقی کرنسیوں کا مقصد مرکزی کنٹرول سے آزادی حاصل کرنا تھا، لیکن یہ نئی سرکاری عددی کرنسی اس کے بالکل برعکس ریاست کی کڑی نگرانی اور مالیاتی تسلط کا سب سے خطرناک ہتھیار ہے۔ جب آپ کے پاس موجود ایک ایک پیسہ حکومتی کھاتوں میں صرف ہندسوں کی صورت میں ہوگا، تو ریاست کو یہ غیر معمولی طاقت حاصل ہو جائے گی کہ وہ نہ صرف یہ طے کرے کہ آپ رقم خرچ کر سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ وہ یہ بھی بتائے گی کہ آپ یہ رقم کہاں، کب اور کس چیز پر خرچ کریں گے۔ ذرا تصور کیجیے کہ آپ کے پیسے کی ایک میعاد مقرر کر دی جائے کہ اگر آپ نے اسے مخصوص تاریخ تک بازار میں نہ لگایا تو وہ خود بخود ختم ہو جائے گا، یا آپ کے سماجی رویوں کی بنیاد پر آپ کا کھاتہ بند کر دیا جائے کیونکہ آپ کی سیاسی یا نظریاتی رائے مقتدر حلقوں کو پسند نہیں آئی۔ یہ کوئی خیالی کہانی نہیں بلکہ اس نظام کا منطقی انجام ہے جہاں آپ کی گزر اوقات کا اختیار کسی مرکزی ادارے کے ہاتھ میں ہوگا۔
سن دو ہزار چھبیس کے آغاز تک اس جال کے پھیلاؤ کی صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے۔ چین اس میدان میں سب سے آگے ہے، جہاں برقی یوآن اب صرف تجرباتی مرحلے تک محدود نہیں رہا بلکہ بڑے شہروں میں اسے عام کر دیا گیا ہے اور کھربوں کے لین دین اسی کے ذریعے ہو رہے ہیں۔ بہاماس اور نائجیریا جیسے ممالک میں یہ نظام پہلے ہی نافذ ہے تاکہ عوام کو مکمل طور پر سرکاری نگرانی میں لایا جا سکے۔ بھارت نے بھی اپنے برقی روپے کو ملک گیر سطح پر پھیلانا شروع کر دیا ہے تاکہ عوامی امداد اور سرکاری ادائیگیوں کو مکمل طور پر مرکزی کنٹرول میں رکھا جائے۔ روس میں اس نظام کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور برازیل اپنی نئی عددی کرنسی کو عام مارکیٹ میں لانے کی تیاریاں مکمل کر چکا ہے۔ یورپ میں اس حوالے سے قانون سازی آخری مراحل میں ہے اور توقع ہے کہ اگلے ایک دو برسوں میں پورا براعظم اس کی لپیٹ میں ہوگا۔ امریکہ میں اگرچہ اس پر بحث جاری ہے، لیکن وہاں بھی پسِ پردہ برقی ڈالر کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔
ہماری شناخت سے لے کر ہمارے اثاثوں تک ہر چیز کو برقی سانچے میں ڈھال دینے کا یہ عمل دراصل ایک ایسی قید گاہ تیار کر رہا ہے جہاں سے فرار ممکن نہیں۔ اگر ہم نے نقد رقم کی صورت میں موجود اپنی آزادی کھو دی، تو ہم اپنی مالیاتی رازداری کا آخری نشان بھی گنوا دیں گے۔ یہ جدید کرنسیاں محض لین دین کا طریقہ نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک ایسے مقید معاشرے کی بنیاد ہیں جہاں ایک اشارے پر کسی بھی مخالف آواز کو معاشی طور پر مفلوج کیا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم سہولت کے اس فریب میں مکمل گرفتار ہو جائیں، ہمیں خود سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم ایک ترقی یافتہ معیشت کی طرف بڑھ رہے ہیں یا ایک انتہائی منظم اور جدید قید خانے کی طرف جہاں ہماری ہر حرکت پر پہرہ ہوگا؟
پروفیسر اکرم ثاقب