دیکھوں جو آسمان تو یزداں مرے خلاف
پھر اس زمین پر ہیں یہ انساں مرے خلاف
ہر چال چل چکے وہ مگر کچھ نہیں ہوا
دیکھو ذرا کھڑے ہیں پشیماں مرے خلاف
دیکِھو کہ آسمان بدلتا ہے کیسے رنگ
دشمن کے ساتھ دوست بھی یکساں مرے خلاف
آواز گر دباؤں ملامت کرے ضمیر
آواز جو اُٹھاؤ تو سلطاں مِرے خلاف
کرتا ہوں گر میں تنگیِ دامان کا علاج
آسودگی کے سارے ہی امکاں مِرے خلاف
فیاضؔ زندگی اِسی اُلجھن میں کٹ گئی
دایاں اگر ہے ساتھ تو ، بایاں مِرے خلاف
فیاض ڈومکی