چھلکتی آئے کہ اپنی طلب سے

ابن صفی کی ایک اردو غزل

چھلکتی آئے کہ اپنی طلب سے بھی کم آئے
ہمارے سامنے ساقی بہ ساغر جم آئے

فروغ آتش گل ہی چمن کی ٹھنڈک ہے
سلگتی چیختی راتوں کو بھی تو شبنم آئے

بس ایک ہم ہی لیے جائیں درس عجز و نیاز
کبھی تو اکڑی ہوئی گردنوں میں بھی خم آئے

جو کارواں میں رہے میر کارواں کے قریب
نہ جانے کیوں وہ پلٹ آئے اور برہم آئے

نگار صبح سے پوچھیں گے شب گزرنے دو
کی ظلمتوں سے الجھ کر وہ آئی یا ہم آئے

عجیب بات ہے کیچڑ میں لہلہائے کنول
پھٹے پرانے سے جسموں پہ سج کے ریشم آئے

مسیح کون بنے سارے ہاتھ آلودہ
لہولہان ہے دھرتی کہاں سے مرہم آئے

ابنِ صفی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔