چارہ گر

ایک اردو نظم از اسماء بتول

چارہ گر !
میرے لیئے کبھی
تم گھنے
سایہ دار درخت
کی طرح ھو
ٹھنڈی میٹھی
چھاؤں جیسے
کبھی تپتے
صحرا جیسے
جسم و جاں کو
جھلسا دینے والے
کبھی بہتے دریا جیسے
پرسکون
کبھی گلے میں اٹکی
پھانس کی طرح
نہ سانس روکے
نہ سانس آنے دے
بتاؤ ناں اے میرے چارہ گر !
تیرا کون سا روپ
امر ھے

اسماء بتول

اسماء بتول

نام ۔۔۔۔ اسماء بتول تاریخ پیدائش ۔۔۔ 20 جون 1976ء جائے پیدائش ۔۔ سیالکوٹ رہائش ۔۔۔۔ سیالکوٹ 19 سال سے درس وتدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوں۔۔۔ آرمی پبلک اسکول سیالکوٹ میں اردو معلمہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہوں۔۔۔ حساس طبیعت ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی اپنے احساسات و جذبات کو اشعار اور نظم کی صورت میں صفحہء قرطاس پر منتقل کر دیتی ہوں۔