عوام کی آواز ( ہیلمٹ )

عابد خان لودھی کا ایک اردو کالم

محترمہ جناب وزیر اعلی پنجاب السلام و علیکم:
جنہیں سرکاری خزانے سے تمام سہولیات میسر ہوں۔ انہیں کیا پتہ 25000تنخواہ والا کیسے گذاراکرتا ہے۔ پہلے بنیادی معاملات کو درست کر لینا چاہیئے ۔ جب ریاست اپنے فرائض پوری کر رہی ہو ۔ بعد میں تشہیر اچھی لگتی ہے۔ میں سیالکوٹ کا رہائشی ہوں ۔کیڑی (چیونٹی) پیشاب کر جائے تو سارا شہر پانی میں ڈوب جاتا ہے۔ پچھلے 60سال سے میں یہی دیکھ رہا ہوں۔ کسی قسم کی کوئی بھی بنیادی سہولت میسر نہیں۔ سڑک پر چلنے کے آداب کا ایک فی صد بھی علم نہیں حتیٰ کہ میں پولیس کی گاڑیوں کو بھی الٹے ہاتھ چلتے دیکھتا ہوں۔عمل کروانے والوں کی یہ خالت ہے تو عمل کرنے والوں کا کیا حال ہو گا ۔ البتہ ان قوانین سے پولیس کا ریٹ ڈبل ہو گیا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی یہ خالت ہے۔کہ وہاں بیٹھے ہوئے فرعون ECG, Echo کے لئے پرائیویٹ کلینک کی طرف بھیج دیتے ہیں ۔صرف کمیشن کے لئے۔ آپ کو بھی مجھ سے زیادہ علم ہو گا۔ سیالکوٹ سول ہسپتال انجیو گرافی سے محروم ہے۔ انجیو گرافی کے لئے مختلف پرائیویٹ ہسپتالوں کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ النورہسپتال پسرور والے دو تین دن کا وقت دیتے ہیں اور وزیرآباد والے تین چار ماہ کا وقت دیتے ہیں ۔ تا کہ مریض لغا(مر)جائے۔ہاں صفائی کا نظام پہلے سے بہتر ہو رہا ہے۔ مگر ان راستوں پر جہاں سے مائی باپ کو گذرنا ہو تا ہے۔سیالکوٹ میں جن پرائیویٹ ہسپتالوں میں انجیو گرافی کرتے ہیں وہ مریض کا مکان پہلے لکھوا لیتے ہیں۔ میڈم پہلے بنیادی سہولتوں کی طرف توجہ دو پھر لوگوں کو ظلم کی چکی میں پیسو۔( چالان اور جرمانے)۔ غریب کی ہا اگر آسمان تک پہنچ گئی ۔ تو ؟؟؟؟؟؟؟؟ عدالتوں میں انصاف سالوں سال نہیں ملتا۔(بیس تیس سال) مگر 1200000 تنخواہ لینے والا قاضی بجلی مفت۔ گیس مفت۔پٹرول مفت۔اور 25000تنخواہ لینے والا 200یونٹ کا بل 3000اور 201 یونٹ کا بل 13000لعنت اس انصاف پر ۔ اور ایسے عقل و شعور پر۔ اس کے علاوہ دوسرے اداروں کا بھی یہ حال ہے۔ آپ کے چند منصوبے بہت اچھے ہیں ۔مثلاًسولر۔سبز گاڑیاں۔تین مرلہ مکان اور مختلف قسم کے قرضہ جات۔ لیکن اگر پاکستان کے ساتھ سنجیدہ ہیں تو مفت خوروں کی طرف بھر پور توجہ دینی ہوگی۔ ان کی گیس۔بجلی اور پٹرول کی تمام مراعات ختم ۔ اس سے ملک کا انرجی بحران ایک دن میں ختم ہو جائے گا۔ مگر ایسا ہونے والا نہیں ۔کیونکہ مگر مچھ ؟ سولر کے ساتھ ساتھ مثبت اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔
جب سیالکوٹ میں ہیلمٹ پر سختی ہوئی تو میں نے بیسیوں موٹر سائیکل سواروں کا جائزہ لیا۔ گاؤں سے موٹر سائیکل پر تین لوگ بیٹھ کر آتے ہیں۔ بے شک یہ قانون شکنی ہے۔ مگر ریاست ذمہ دار ہے۔ کہ کوئی سرکاری سواری میسر نہیں۔ان کے پاس علیحدہ علیحدہ آنے کا ذریعہ نہیں۔ وہ جو کماتے ہیں اس سے کرایہ نہیں دے سکتے ۔ ایک موٹر سائیکل والے کا اشارہ نہیں تھا ۔ میں نے کہا اشارہ لگوا لو چالان ہو جائے گا۔ کہنے لگا روٹی پوری کریں یا اشارہ لگوائیں۔ جو شخص 70روپے کا اشارہ نہیں لگوا سکتا۔ وہ تین ہزار کا ہیلمٹ کہاں سے خریدے گا۔سب سے اچھی بات کہ کئی سالوں سے سیالکوٹ کینٹ میں ہیلمٹ کی پابندی تھی ۔ لیکن غریب روٹی پوری کرے یا ہیلمٹ خریدے۔ انہوں نے بھی تین چار ماہ سے یہ پابندی ختم کر دی ہے۔ شکریہ افوج پاکستان۔ اسی وجہ سے لوگ چوری ڈکیتی اور راہزنی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ خدا کا خوف کھاؤ اور ظلم کے ہتھکنڈوں سے پرہیز کرو۔ غریب کو صرف جینے کا حق دو۔ امام ابو حنیفہ سے کسی نے چوری کے بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا صاحب حیثیت چوری کرے تو اس کے ہاتھ کاٹ دو۔ اور اگر ضرورت مند چوری کرے تو حکمران کی گردن اڑا دو۔ یہ سولر۔الیکٹرک بائیک۔لیپ ٹاپ۔ شادی جہیز۔ اپنا گھر۔ان کاموں سے آپ کو کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہونے والا ۔ ایک ووٹ بھی نہیں بڑھے گا۔ بشرطیکہ آپ کوئی مستقل کام کر جائیں انہی پیسوں سے کارخانے۔ فیکٹریاں اور ہسپتال اور قبرستان (سیالکوٹ میں کسی بھی قبرستان میں مردہ دفنانے کے لئے جگہ نہیں)بنوائیں۔ جو آپ عوام کو بھکاری بنانے کے لئے خرچ کر رہے ہیں۔ لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع میسر ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ پر راضی ۔ خود بخود آپ کی سیاسی طاقت میں اضافہ ہو گا۔ سطحی کاموں کی بجائے ابدی کاموں کی طرف توجہ دو۔

عابد خان لودھی
انجمن خیر الناس لودھی
سٹریٹ ٹبہ ککے زئیاں سیالکوٹ

عابد خان لودھی

وہ ایک سماجی کارکن اور مصنف ہیں۔