یہ خود غرض ہے یہ کم نسب ہےسُنو بڑی بے ادب ہے دنیا
ہمارے در پر پڑی تھی کل تک ہمیں سے بیعت طلب ہے دنیا
امیر لوگوں سے دور رہیے تو کم کھٹکتی ہے یہ غریبی،
ہے جتنی قربت سمندروں سے اسی قدر تشنہ لب ہے دنیا
ہمیشہ رکھّا ہے ٹھوکروں پر ہمیشہ رکھّیں گے ٹھوکروں میں،
نہ کل ہماری یہ آرزو تھی نہ اب ہماری طلب ہے دنیا
تو ہم نے کاندھوں سے خواہشوں کی ردا ہی اک دن اتار پھینکی
حقیر کرنے لگی تھی ہم کو سمجھ رہی تھی کہ رب ہے دنیا
کہیں ہیں رحم و کرم کے بادل کہیں ہیں بغض و حسد کے شعلے
کہیں محمّد سی خوبصورت مگر کہیں بو لہب ہے دنیا
کبھی سر آنکھوں پہ یہ بٹھائے، کبھی یہ مقتل میں چھوڑ آئے
نہ اس کا ہر گز یقین کرنا عجب ہے دنیا غضب ہے دنیا
ہر اک قدم پر نگاہ رکھیے ہر اک نفس احتیاط رکھیے
کہیں کہیں پر ہے جان لیوا کہیں پہ خود جاں بلب ہے دنیا
سبھی کے احوالِ غم الگ ہیں ،سبھی کی رودادِ جاں جدا ہے
کہیں پہ ماتم کہیں پہ مجلس کہیں پہ بزمِ طرب ہے دنیا
ہمارے لہجے کی تلخیوں میں کوئ قصیدہ کہاں ڈھلے گا
نہ کوئ شوخیءِچشمِ جاناں نہ عارض وزلف ولب ہے دنیا
جو آج خنجر بکف کھڑی ہے کبھی ہماری حلیف تھی یہ
نویدِ صبحِ حیات بن کر ہلاکتوں کا سبب ہے دنیا
طارق قمر