یہ کیسا ابر دل پر چھا گیا ہے
اداسی روح تک برسا گیا ہے
ذرا یہ برف کا کہسار دیکھو
کہ جیسے آئنہ پتھرا گیا ہے
ذرا یہ سوختہ اشجار دیکھو
کوئی غم ہے جو ان کو کھا گیا ہے
بس اب یہ دوستی ہے عمر بھر کی
وہ مجھ سے ہی مجھے ملوا گیا ہے
سعود عثمانی
ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
بہزاد لکھنوی کی ایک اردو غزل