وعدے پُورے کر نئیں جاندا

تجمل کلیم کی ایک پنجابی غزل

وعدے پُورے کر نئیں جاندا
سوچ رہیاں کیوں مر نئیں جاندا

جس دن نہ مزدوری لبھے
بُوہے ولوں گھر نئیں جاندا

کانواں تک نوں ذات پیاری
بندہ سُن کے مر نئیں جاندا

میرا سینہ دم کرواؤ
میرے اندروں ڈر نئیں جاندا

سرِ ساہنواں دی پَنڈ نئیں ہوندی
مردہ ایویں تر نئیں جاندا

اِنج کلیم نے نِیویں سُٹی
جسراں بندا ہر نئیں جاندا

حوالہ: برفاں ہیٹھ تندور، پہلا پیر پبلی کیشنز اسلام آباد؛ صفحہ 81

تجمل کلیم

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔