اس کی ادا ادا میں جو سامان برق تھا

منزہ انور گوئندی کی ایک اردو غزل

اس کی ادا ادا میں جو سامان برق تھا
طاق حریم دل پہ چراغان برق تھا

تھاما تھا کس کی یاد نے طبع رسا کا ہاتھ
جولانئ خیال میں عنوان برق تھا

اُڑتے ہیں جا بجا خس و خاشاک آرزو
یہ دشت دل کبھی رہ جولان برق تھا

جلنے کی آس میں کئی خرمن بکھر گئے
کس سوچ میں یہ دیدہ حیران برق تھا

دیوانہ وار سینہ شب میں اُتر گئی
دست ھوا میں تار گریبان برق تھا

اپنے ہی غم کی آتش پنہاں میں جل بجھے
خرمن پہ اہل درد کے بہتان برق تھا

آنکھوں کے سامنے وہ کب آ کر نکل گئے
جلوہ بقدر جنبش مژگان برق تھا

آخر غم جہاں کی ہوا نے مٹا دیا
داغ جگر کہ سلسلہ جنبان برق تھا

منزہ انور گوئیُندی

منزہ انور گوئیندی

تعارف منزہ انور گوئیندی کا تعلق ادبی گھرانے سے ہے ان کے والد انور گوئیندی کا شمار مشاہیر ادب میں ھوتا ھے اور وہ اردو ادب کے بانیوں میں سے ھیں ۔ سرگودھا میں کامران مشاعرے اور کامران رسالے کے ذریعے انہوں نے ادب کی آبیاری کی ان کی وفات کے بعد یہ مسند ان کی اکلوتی بیٹی منزہ انور گوئیُندی نے سنبھالی جو ایک نامور افسانہ نگار ، کالم نگار اور شاعرہ ھونے کے ساتھ ساتھ کامران ادبی رسالہ کی مدیرہ بھی ہیں ۔ منزہ انور گوئیندی عالمی شہرت یافتہ قلمکار اور صدا کار ہیں ۔ گزشتہ بیس سال سے ریڈیو پاکستان سے منسلک ھیں اور علمی و ادبی پروگرام پیش کر رہی ھیں ۔ منزہ انور گوئیُندی کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈز اور اعزازات اور میڈلز دیے جا چکے گئے ھیں ۔ حال ھی میں دورہ برطانیہ کے دوران انہیں سفیر ادب کا خطاب بھی عطا کیا گیا ۔ اور ان کے اعزاز میں سکاٹ لینڈ بین الاقوامی مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا منزہ گوئیندی کے خاندان کا شمار کارکنان تحریک پاکستان میں ھوتا ھے اور اس ضمن میں انہیں سابق صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سے گولڈ میڈل بھی دیا گیا