تجھ پر مری رسوائی کا الزام تو ہے نا

اختر عثمان کی ایک اردو غزل

تجھ پر مری رسوائی کا الزام تو ہے نا
دل توڑنے والوں میں ترا نام تو ہے نا

کہتے ہیں اداسی کا سبب کوئی تو ہوگا
کچھ بھی نہ ہو اک سلسلۂ شام تو ہے نا

یونہی تو نہیں رہتیں افق پر مری آنکھیں
وہ ماہِ ہنر تاب سرِبام تو ہے نا

میں کوئی قلندر ہوں کہ تقدیر پہ چھوڑوں
درپے ہے اگر گرشِ ایام تو ہے نا

میں شب میں چراغ ایسا کہ ظلمت مری لو سے
کچھ دم تو سہی لرزہ بر اندام تو ہے نا

ممکن ہی نہیں موت مجھے مار دے اخترؔ
میں صاحبِ معنیٰ ہوں مرا کام تو ہے نا

اختر عثمان

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔