تم انتظار کے لمحے شمار مت کرنا

ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کی ایک اردو غزل

تم انتظار کے لمحے شمار مت کرنا

دیئے جلائے نہ رکھنا سنگار مت کرنا

مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں

میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا

کرن سے بھی ہے زیادہ ذرا مری رفتار

نہیں ہے آنکھ سے ممکن شکار مت کرنا

تمہیں خبر ہے کہ طاقت مرا وسیلہ ہے

تم اپنے آپ کو بے اختیار مت کرنا

تمہارے ساتھ مرے مختلف مراسم ہیں

مری وفا پہ کبھی انحصار مت کرنا

تمہیں بتاؤں یہ دنیا غرض کی دنیا ہے

خلوص دل میں اگر ہے تو پیار مت کرنا

ملیں گے راہ میں عاصمؔ کو ہم سفر کئی اور

وہ آ رہا ہے مگر انتظار مت کرنا

ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔