سرِ آبِ رواں چندا، کنار آب می رقصم

ایک اردو غزل از عُظمی جٙون

سرِ آبِ رواں چندا، کنار آب می رقصم
بہ ہمراہِ چکوراں در شبِ مہتاب می رقصم

کھلا ہے عشق کا پھر سے نیا اک باب، می رقصم
کِیا ہے بارہا دلبر نے بھی اِیجاب، می رقصم

ہے کوئی شخص جو اس خواب کی تعبیر بتلائے
گذشتہ کچھ دنوں سے دیکھتا ہوں خواب، می رقصم

بوقتِ وصل دلبر کو فقط اک بار دیکھا ہے
نظر میں ہے تنِ سیمیں کی آب و تاب، می رقصم

لبوں کو چُوم کر محسوس ہوتا ہے کہ ظالم نے
شرابِ تلخ میں گھولی ہوئی ہے راب، می رقصم

لِباسِ فٙقر بھاتا ہے نہ پیوندی قبا اس کو
پہن کر جامہ ہائے اٙطلس و کِمخواب می رقصم

چکور و مور کی صورت شب ہائے ہجر میں یارو !
مجھے دیکھو، مجھے دیکھو، میں ہوں بےتاب، می رقصم

اُنڈیلی آتشِ سیال عُظمی جٙون خالص ہی
اُٹھا کر ہاتھ میں جامِ شرابِ ناب، می رقصم

عُظمی جٙون

عُظمی جَون

عُظمی جَون- سِبّی : بلوچستان-دو شعری مجموعوں کے خالق :*خِزاں کی رُت سُنہری ہے**ستارے میرے آنسو ہیں*- پروفیسر/پرنسپل (ریٹائرڈ)- مقامی، صوبائی، ملکی اور عالمی مشاعروں میں شرکت۔ لاتعداد ایوارڈ و اسناد یافتہ۔ *فن اور شخصیت*- *خِزاں کی رُت سُنہری ہے کا فنی جائزہ* - *"خِزاں کی رُت سُنہری ہے" کا تنقیدی جائزہ*- *عُظمی جَون کی شاعری میں روایت و جدیدیت کا تقابلی جائزہ* جیسے عنوانات کے تحت BS, ایم ایس اور M.Phil کی سطح پر تحقیقی مقالہ جات۔ Face Book, YouTube، Instagram جیسے سوشل میڈیا پر Uzmee Jaon کے نام سے چینل اور پیجز۔ریختہ اور گوگل پر مواد موجود۔آذربائیجان میں عارضی رہائش۔