سرِ آبِ رواں چندا، کنار آب می رقصم
بہ ہمراہِ چکوراں در شبِ مہتاب می رقصم
کھلا ہے عشق کا پھر سے نیا اک باب، می رقصم
کِیا ہے بارہا دلبر نے بھی اِیجاب، می رقصم
ہے کوئی شخص جو اس خواب کی تعبیر بتلائے
گذشتہ کچھ دنوں سے دیکھتا ہوں خواب، می رقصم
بوقتِ وصل دلبر کو فقط اک بار دیکھا ہے
نظر میں ہے تنِ سیمیں کی آب و تاب، می رقصم
لبوں کو چُوم کر محسوس ہوتا ہے کہ ظالم نے
شرابِ تلخ میں گھولی ہوئی ہے راب، می رقصم
لِباسِ فٙقر بھاتا ہے نہ پیوندی قبا اس کو
پہن کر جامہ ہائے اٙطلس و کِمخواب می رقصم
چکور و مور کی صورت شب ہائے ہجر میں یارو !
مجھے دیکھو، مجھے دیکھو، میں ہوں بےتاب، می رقصم
اُنڈیلی آتشِ سیال عُظمی جٙون خالص ہی
اُٹھا کر ہاتھ میں جامِ شرابِ ناب، می رقصم
عُظمی جٙون