روشنی رہ جائیں گی بینائیاں رہ جا ئیں گی
دل گواہ ہے ذات کی اچھائیاں رہ جائیں گی
تیری یادوں کو ہمیشہ اس لیئے رکھتا ہوں پاس
ورنہ کمرے میں فقط تنہائیاں رہ جا ئیں گی
پھر تکوں گا چھت کو میں بستر پہ لیٹا دیر تک
کپکپاتی اَ ن کہی پر چھائیں رہ جائیں گی
مجھ کو یہ معلوم ہے زر ناپ لے گا تیر ا حسن
اور میرے عشق کی سچائیاں رہ جائیں گی
فلسفہ مل جائے گا پھر زیست کر نے کا تجھے
اور مری باتوں کی سب گہرائیاں رہ جائیں گی
تتلیاں اور پھول نکلیں گے کتابوں سے تری
بس یہی کچھ منجمد رسوائیاں رہ جائیں گی
کسمساہٹ ملگجی شاموں میں تیرے جسم کی
اِن رتوں کی ٹوٹتی انگڑئیاں رہ جائیں گی
عمر دے جائے گی چہرے پر میرے کچھ جھریاں
اور ترے گالوں پہ بھی کچھ جھائیاں رہ جائیں گی
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ