روٹھے کو منانے میں دیر کتنی لگتی ہے
اپنا دل لٹانے میں دیر کتنی لگتی ہے
دل لگی ہوئی ہے جو دل کا روگ ہے جاناں
پیار آزمانے میں دیر کتنی لگتی ہے
دل اداس ہے دشتِ ویراں میں مگر دیکھو
خود کو بھول جانے میں دیر کتنی لگتی ہے
مجھ سے رات کا عالم نہ پوچھ چاند بھی تڑپا
روشنی بجھانے میں دیر کتنی لگتی ہے
زندگی کے میلے میں خواہشوں کے ریلے میں
جان کو گنوانے میں دیر کتنی لگتی ہے
پلکوں کے کنارے پر آ گیا ہے جو پانی
اشک اک بہانے میں دیر کتنی لگتی ہے
عشق نے غزل میرا جینا کر دیا مشکل
سانس ٹوٹ جانے میں دیر کتنی لگتی ہے
کویتا غزل مہرا