رات دن پر شور ساحل جیسا منظر مجھ میں تھا

حسن عباسی کی ایک اردو غزل

رات دن پر شور ساحل جیسا منظر مجھ میں تھا

تم سے پہلے موجزن کوئی سمندر مجھ میں تھا

آج تیری یاد سے ٹکرا کے ٹکڑے ہو گیا

وہ جو صدیوں سے لڑھکتا ایک پتھر مجھ میں تھا

جیتے جی صحن مزار دوست تھا میرا وجود

اک شکستہ سا پیالہ اور کبوتر مجھ میں تھا

میں کہاں جاتا دکھانے اپنے اندر کا کمال

جو کبھی مجھ پر نہ کھل پایا وہ جوہر مجھ میں تھا

ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اس کو رات دن خود میں حسنؔ

وہ جو کل تک مجھ سے بھی اک شخص بہتر مجھ میں تھا

حسن عباسی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔