قسم سے کتنا ڈری ہوئی تھی
جو بات لب پر دھری ہوئی تھی
تمہارے آنے سے جی اٹھی ہے
یہ زندگی جو مری ہوئی تھی
بس اک نظر سے یہ شاخِ مردہ
کہیں کہیں سے ہری ہوئی تھی
مجھے مکمل نہیں ۔۔۔بنایا
عجب سی کوزہ گری ہوئی تھی
تمہارے چھونے سے میری دھڑکن
سدا کی کھوٹی کھری ہوئی تھی
غزل کے غنچے مہک رہے تھے
سخن کی ڈالی بھری ہوئی تھی
ہرے تھے عنبر کے زخم سارے
یہ کیسی چارہ گری ہوی تھی
فرحانہ عنبر