قسم سے کتنا ڈری ہوئی تھی

فرحانہ عنبر کی ایک اردو غزل

قسم سے کتنا ڈری ہوئی تھی
جو بات لب پر دھری ہوئی تھی

تمہارے آنے سے جی اٹھی ہے
یہ زندگی جو مری ہوئی تھی

بس اک نظر سے یہ شاخِ مردہ
کہیں کہیں سے ہری ہوئی تھی

مجھے مکمل نہیں ۔۔۔بنایا
عجب سی کوزہ گری ہوئی تھی

تمہارے چھونے سے میری دھڑکن
سدا کی کھوٹی کھری ہوئی تھی

غزل کے غنچے مہک رہے تھے
سخن کی ڈالی بھری ہوئی تھی

ہرے تھے عنبر کے زخم سارے
یہ کیسی چارہ گری ہوی تھی

فرحانہ عنبر

فرحانہ عنبر

نام۔۔فرحانہ عنبر شہر۔۔۔گوجرانوالہ شاعری وراثت میں ملی میرے دادا نصیر احمد ناصر بہت اچھے شاعر تھے۔ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق ہے ۔ اردو اور پنجابی ہر دو زبانوں میں کہتی ہوں اور اپنا کلام ترنم میں بھی پیش کرتی ہوں۔ بچپن سے نعت ،حمڈ،منقبت ،غزل گانا سب میں رول پلے کرتی رہی ہوں اور بے شمار انعامات حاصل کر چکی ہوں۔ آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن سے شان پاکستان ایورڈ اور بہت سے دوسرے ایوارڈ حاصل کیے۔ تین انتخاب آ چکے ہیں حسن انتخاب دشت دروں سانجھیاں سوچاں ایک شعری مجموعہ ۔۔چلے آو نا۔۔۔پچھلے سال منظر عام پر آیا ۔ دوسرا شعری مجموعہ۔۔۔میری آنکھیں نہیں ستارے ہیں۔۔۔پروف ریڈنگ کے مرحلے میں ہے۔