نکلا ہوں شہر خواب سے ایسے عجیب حال میں

نکلا ہوں شہر خواب سے ایسے عجیب حال میں

غرب مرے جنوب میں شرق مرے شمال میں

کوئی کہیں سے آئے اور مجھ سے کہے کہ زندگی

تیری تلاش میں ہے دوست بیٹھا ہے کس خیال میں

ڈھونڈتے پھر رہے ہیں سب میری جگہ مرا سبب

کوئی ہزار میل میں کوئی ہزار سال میں

لفظوں کے اختصار سے کم تو ہوئی سزا مری

پہلے کہانیوں میں تھا اب ہوں میں اک مثال میں

میز پہ روز صبح دم تازہ گلاب دیکھ کر

لگتا نہیں کہ ہو کوئی مجھ سا مرے عیال میں

پھول کہاں سے آئے تھے اور کہاں چلے گئے

وقت نہ تھا کہ دیکھتا پودوں کی دیکھ بھال میں

کمروں میں بستروں کے بیچ کوئی جگہ نہیں بچی

خواب ہی خواب ہیں یہاں آنکھوں کے ہسپتال میں

گرگ و سمند و موش و سگ چھانٹ کے ایک ایک رگ

پھرتے ہیں سب الگ الگ رہتے ہیں ایک کھال میں

ذوالفقار عادل

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔