مُرغِ حریص و کِبر مُقَفَّل پَسَند ہے

شاہ محمود جامؔی کی ایک اردو غزل

مُرغِ حریص و کِبر مُقَفَّل پَسَند ہے
درپیشِ یار مُعجِزِ اَرذَل پَسَند ہے

سَہلُ العَمَل اگرچہ نہیں راہِ اِشتِیاق
تَاہَم فَتِیلِ سوز یہ مَشعَل پَسَند ہے

روزِ رواں کے لطف و عنایت بجا مگر
جس کَل میں عہدِ دید ہے وہ کَل پسند ہے

رکھے جو تار تار ہمہ وقت جان و دل
مجھ کو درونِ سینہ وہ ہلچَل پسند ہے

دل کے اُجاڑ دشت و بیاباں میں نِصف شب
آنکھوں سے جو برستا ہے بادَل پسند ہے

مضموم حرف ہے جو کہ لوحِ جہان پر
ناچیز و خاکسار وہ اجمَل پسند ہے

کیونکر نجانے بسترِ مَخمَل سے ہے نَفُور
شاید کہ تَن کو تختہِ مَقتَل پسند ہے

افعالِ اضطرار سے کرتے ہیں اجتناب
گُفت و شُنِید بھی جنہیں سَچَّل پسند ہے

جامؔی تمام عمر اگرچہ ہے محترم
گزرے خیالِ یار میں جو پَل، پسند ہے

شاہ محمود جامؔی
سیالکوٹ پاکستان

شاہ محمود جامؔی

نام ، راشد محمود - قلمی نام ، شاہ محمود جامؔی - قبیلہ ، بَنی ہاشم - تعلیم ، ایم اے اسلامیات - پیشہ ، درس و تدریس - تاریخ پیدائش ... 28.09.1980 - جائے پیدائش ... وڈیانوالہ سیالکوٹ پنجاب - ساکن ، وڈیانوالہ - سیالکوٹ پنجاب پاکستان -