من جس کا مولا ہوتا ہے

علی زریون کی ایک اردو غزل

من جس کا مولا ہوتا ہے

وہ بالکل مجھ سا ہوتا ہے

آنکھیں ہنس کر پوچھ رہی ہیں

نیند آنے سے کیا ہوتا ہے

مٹی کی عزت ہوتی ہے

پانی کا چرچا ہوتا ہے

جانتا ہوں منصور کو بھی میں

اپنے ہی گھر کا ہوتا ہے

اچھی لڑکی ضد نہیں کرتے

دیکھو عشق برا ہوتا ہے

وحشت کا اک گر ہے جس میں

قیس اپنا بچہ ہوتا ہے

بعض اوقات مجھے دنیا پر

دنیا کا بھی شبہ ہوتا ہے

تم مجھ کو اپنا کہتے ہو

کہہ لینے سے کیا ہوتا ہے

علی زریون

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔