محبتوں کی سفیر آنکھیں
وہ تھوڑی تھوڑی شریر آنکھیں
طلب کا کاسہ لیے کھڑی ہیں
تمہارے در پر فقیر آنکھیں
اداس غزلیں سنا رہی ہیں
قسم خدا کی وہ میر آنکھیں
کوی بھی ان سے نہ بچ سکا ہے
کمان ابرو ہیں تیر آنکھیں
سنبھل کے رہنا زمانے والو
جگر کو دیتی ہیں چیر آنکھیں
تڑپ رہی ہے عوام ساری
دکھا رہے ہیں وزیر آنکھیں
حیا پہ مائل رہیں یہ عنبر
کبھی نہ ہوں بے ضمیر آنکھیں
فرحانہ عنبر