محبت رفتہ رفتہ مر رہی ہے

ایک اردو غزل از فرحانہ عنبر

محبت رفتہ رفتہ مر رہی ہے
مگر جینے کا چارہ کر رہی ہے

تمہاری اک نظر چہرے پہ میرے
نہ جانے رنگ کتنے بھر رہی ہے

نگاہوں سے تو کر لیتے ہیں باتیں
زباں اظہار سے کیوں ڈر رہی ہے

تمہارے لمس نے اس کو جگایا
وہ دھڑکن جو کبھی پتھر رہی ہے

جسے اب دیکھتے ہی خوف آئے
یہ ویرانی ہمارا گھر رہی ہے

تمہاری یاد میں اک بیقراری
دلِ بے تاب کو اکثر رہی ہے

بلا کے خشک موسم میں بھی عنبر
ہماری آنکھ ہے جو تر رہی ہے

فرحانہ عنبر

فرحانہ عنبر

نام۔۔فرحانہ عنبر شہر۔۔۔گوجرانوالہ شاعری وراثت میں ملی میرے دادا نصیر احمد ناصر بہت اچھے شاعر تھے۔ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق ہے ۔ اردو اور پنجابی ہر دو زبانوں میں کہتی ہوں اور اپنا کلام ترنم میں بھی پیش کرتی ہوں۔ بچپن سے نعت ،حمڈ،منقبت ،غزل گانا سب میں رول پلے کرتی رہی ہوں اور بے شمار انعامات حاصل کر چکی ہوں۔ آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن سے شان پاکستان ایورڈ اور بہت سے دوسرے ایوارڈ حاصل کیے۔ تین انتخاب آ چکے ہیں حسن انتخاب دشت دروں سانجھیاں سوچاں ایک شعری مجموعہ ۔۔چلے آو نا۔۔۔پچھلے سال منظر عام پر آیا ۔ دوسرا شعری مجموعہ۔۔۔میری آنکھیں نہیں ستارے ہیں۔۔۔پروف ریڈنگ کے مرحلے میں ہے۔