محبت رفتہ رفتہ مر رہی ہے
مگر جینے کا چارہ کر رہی ہے
تمہاری اک نظر چہرے پہ میرے
نہ جانے رنگ کتنے بھر رہی ہے
نگاہوں سے تو کر لیتے ہیں باتیں
زباں اظہار سے کیوں ڈر رہی ہے
تمہارے لمس نے اس کو جگایا
وہ دھڑکن جو کبھی پتھر رہی ہے
جسے اب دیکھتے ہی خوف آئے
یہ ویرانی ہمارا گھر رہی ہے
تمہاری یاد میں اک بیقراری
دلِ بے تاب کو اکثر رہی ہے
بلا کے خشک موسم میں بھی عنبر
ہماری آنکھ ہے جو تر رہی ہے
فرحانہ عنبر